صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 416
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۶ ۶۵ - كتاب التفسير / هود دوم: اعترايك سے آیت اِن تَقُولُ إِلَّا اعْتَركَ کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت ہود علیہ السلام سے اُن کی قوم کہتی ہے کہ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے دیوتاؤں کی بد دعا تمہیں لگ گئی ہے۔ پوری آیت یہ ہے : إِن تَقُولُ إِلا اعْتَرَيكَ بَعْضُ الهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّي اُشْهِدُ اللهَ وَا أشْهِدُ اللهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِى مِمَّا تُشْرِكُونَ ) مِمَّا تُشْرِكُونَ (هود: ۵۵) (تیرے متعلق) ہم سوائے اس کے (کچھ) نہیں کہتے کہ ہمارا کوئی معبود بد ارادوں سے تیرے پیچھے پڑ گیا ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کو اس بات کا گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جس کسی کو تم اللہ کا شریک قرار دیتے ہو میں اس سے بیزار ہوں۔ یہاں یہ بتلایا گیا ہے کہ اختری عرو سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں قابل اعتماد سہارا۔ مفردات راغب میں مروة کا اشتقاق عرا یعر و بتایا گیا ہے اور اسی سے لفظ عَرِيَّةُ بھی بیان کیا ہے۔ یعنی اس میں اشارہ ہے کہ خیرات وغیرہ طلب کرنے کے لئے کسی کے پاس جانا اور مطالبہ میں اس سے لیٹے رہنا۔ اسی لفظ سے برتن کے دستے کو ٹھر وہ کہتے ہیں اور بٹن کے شگاف کو بھی عُروہ کہتے ہیں، جس میں وہ داخل ہو کر کپڑے کو باندھے رکھتا ہے۔ عزو کے معنی ایک طرف کے بھی ہیں اور برتن کا دستہ یا کنڈا بھی ایک طرف ہوتا ہے، جس سے پکڑ کر اسے تھاما جاتا ہے۔ المفردات فی غریب القرآن عرى) (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه (۲۹۴) (اقرب الموارد - عرو) مذکورہ بالا اشتقاق سے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۷ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ فرماتا ہے: لا إكراه في الدِّينِ قَد تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرۃ: ۲۵۷) دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں۔ ہدایت اور گمراہی کا ما به الفرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔ پس جو طاغوت کی بات نہیں مانے گا اور اللہ کی باتوں کو مانے گا تو سمجھ لو اُس نے ایک نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں پکڑ لیا ہے اور اللہ بہت سننے والا اور بہت ہی جاننے والا ہے۔ طاغوت حانوت کے وزن پر ہے اور صیغہ مبالغہ - مبالغہ ہے۔ یعنی حدود سے بہت نکلنے والا اور حدود تو حدود توڑنے کا حکم دینے والا، بد سرداروں کو طاغوت کہتے ہیں اور یہ لفظ شیطان کا مترادف ہے۔ اس کی جمع طواغیت ہے۔ عرب کا ہن و جادو گر وغیرہ بھی طواغیت کہلاتے تھے۔ غرض عرش باری تعالیٰ میں ہر کوئی تابع تقدیر الہی ہے اور پورے طور پر اس کے قبضہ تصرف میں مسخر اور تابع ہے۔ جو راستہ انسان کے لئے معین کیا گیا ہے اس سے روگردانی جرم اور قابل مواخذہ ہوتی ہے۔ بایں ہمہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی حکومت میں آزادی ارادہ و عمل دی گئی ہے۔ چاہے وہ احکام شریعت پر عمل کرے یا نہ کرے ثواب و عقاب کا دارو مدار اُس کے اِسی امتیاز میں ہے اور اُس کی یہی خلقت اَحْسَنِ تَقویم سے تعبیر کی گئی ہے۔ مشیت الہی سے ہم آہنگی اور احکام خالق کی اطاعت سے انسان خالق کی صفات کا مظہر ہو کر زمرہ علین میں شامل ہو سکتا ہے اور اُن سے روگردانی اُسے اَسْفَلَ سَفِلِينَ کر دیتی ہے۔ اِس انسانی تخلیق سے صفات باری تعالٰی عالم ناسوت میں روز بروز زیادہ سے زیادہ جلوہ گر ہوتی جارہی ہیں۔ جس کے بغیر یہ عالم ہیولہ کی صورت میں گم سم پڑا تھا۔ امام بخاری نے مذکورہ بالا باب میں ان دونوں آیتوں کا حوالہ یوں ہی نہیں دیا بلکہ ان سے عرش الہی کی شرح مقصود بالذات ہے۔