صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 415 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 415

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۵ ۶۵ - كتاب التفسير / هود جَرَتْ هِيَ مَرْسَاهَا مِنْ رَسَتْ کر اُن کا چلانا اور یہ مصدر ہے أُجْرِیت کا (یعنی وَمُجْرِيْهَا وَ مُرْسِيْهَا مِنْ فُعِلَ بِهَا، اسے چلایا گیا) اور انسیت کے معنی ہیں میں نے (کشتی) ٹھہرالی اور مَجْرَاهَا بھی پڑھا جاتا ہے الرَاسِيَاتٌ ثَابِتَاتٌ۔جو جَرَتْ سے ہے (یعنی وہ چلی) اور مَرْسَاهَا بھی پڑھا جاتا ہے جو رست سے ہے۔(یعنی وہ رک گئی۔اور مُجْرِيْهَا اور مُرسِيهَا ( بھی پڑھا جاتا ہے۔جو ) مفعول کے معانی میں ہے۔(یعنی اللہ اُن کو چلانے والا اور ٹھہر انے والا ہے۔) الراسیات کے معنی ہیں گڑی ہوئیں۔ریح وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ : اس کا عرش پانی پر ہے۔جسمانی زندگی ہو یا روحانی، دونوں کا قیام آسمانی آب حیات سے ہے۔قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر وحی الہی آسمانی پانی سے تعبیر فرمائی گئی ہے۔عرش تخت حکومت یعنی شرعی ضابطہ و نظام کا نام ہے۔اس سے مراد وہ اصول شریعت ہیں جن پر روحانی زندگی کا دارومدار ہے۔مذکورہ بالا آیت سے یہی روحانی نظام مراد ہے۔جیسا کہ سیاق کلام سے ظاہر ہے۔پوری آیت یہ ہے: وَهُوَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَ كَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ ايكم اَحْسَنُ عَمَلًا وَلَبِنْ قُلْتَ إِنَّكُمْ مَبْعُوثُونَ مِنْ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولُنَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرُ تمین (هود: ۸) اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا ہے تا کہ وہ تمہارا امتحان کرے (کہ) تم میں سے کس کے عمل زیادہ اچھے ہیں۔اور اس کا عرش پانی پر ہے۔اور یہ یقینی امر ہے کہ اگر تو (ان سے) کہے (کہ) تم مرنے کے بعد ضرور اُٹھائے جاؤ گے تو جن لوگوں نے انکار کیا ہے (قسمیں کھا کھا کر) کہیں گے (کہ) یہ دعوے) صرف ایک دھوکا ہے۔اس باب کے تحت جہاں عرش کا مفہوم بیان کیا گیا ہے وہاں بعض مفردات کی شرح نقل کر کے ان آیات کی طرف توجہ منعطف کرائی گئی ہے تا عرش باری تعالیٰ اور نظام روحانی کی نوعیت کا کسی قدر علم ہو سکے۔اول روایت زیر باب (نمبر ۲) کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی شان ربوبیت بہت ہی بلند و بالا اور رحمانیت (بلا محنت عطاء و بخشش ) غیر محدود ہے۔اس کا تخت حکومت پانی پر قائم ہے اور اس کے ہاتھ میں میزان ہے۔یعنی داد و دہش ، عدل و انصاف سے ہے۔اس جہان کی ہر شے اس کی قدرت کے تصرف میں ہے۔جزا و سزا اعمال کے مطابق ہوتی ہے۔سورۃ فاتحہ میں جو چار صفات باری تعالی ،رب رحمن رحِيمِ اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ بيان ہوئی ہیں، ان کا یہی مفہوم ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہے۔اس سے اس کے عرش کا تصور کیا جاسکتا ہے۔