صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 414
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۴ ۶۵ - كتاب التفسير / هود وَرَجْلَةٍ يَضْرِبُونَ الْبَيْضَ صَاحِيَةً اور بہت سے پیادے لوگ تھے جو اُن خودوں پر جو ضَرْبًا تَوَاصَى بِهِ الْأَبْطَالُ سِحِينَا کہ سورج کی روشنی میں چمک رہی تھیں، سخت چوٹیں مار رہے تھے۔ایسی چوٹیں کہ بہادر ایک دوسرے کو ان سے متعلق وصیت کر گئے تھے ، (جو ایسی چوٹیں تھیں) کہ جن پر پڑتی ان کو وہیں کاٹ ڈالتی تھیں۔باب ٣ ١ وَ إِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيباً (هود: (٨٥) اور (ہم نے مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب ) إِلَى أَهْلِ مَدْيَنَ لأَنَّ مَدْيَنَ بَلَدٌ کو بھیجا) - مدین سے مراد مدین والے ہیں کیونکہ وَ مِثْلُهُ وَسُلِ الْقَرْيَةَ (يوسف: (۸۳) مدین شہر ہے اور یہ اس طرح ہے جو فرمایا: وَسُلِ الْعِيْرَ يَعْنِي أَهْلَ الْقَرْيَةِ وَالْعِيرِ۔وَسُتَلِ الْقَرْيَةَ وَسُلِ الْعِيْرَ یعنی گاؤں والوں وَرَاءَ كُم ظهرِيَّا (هود: (۹۳) يَقُولُ لَمْ سے پوچھ اور قافلے والوں سے پوچھ۔وَرَاءَ کُھ تَلْتَفِعُوا إِلَيْهِ۔وَيُقَالُ إِذَا لَمْ يَقْضِ ظِفریا سے یہ مراد ہے تم نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔اور جب آدمی کسی کا مقصد پورا نہ کرے تو اسے کہتے ہیں یعنی تم نے میرے مقصد کو پس پشت ڈال دیا یا تم نے مجھے پس پشت ڈال دیا اور لفظ الظهري کا مفہوم یہاں یہ ہے کہ تو اپنے ساتھ کوئی جانور یا برتن لے لے، جس سے تو إجرامي (هود: ٣٦) هُوَ مَصْدَرٌ مِنْ حاجت براری کرے۔اراذلنا کے معنی ہیں ہم أَجْرَمْتُ۔وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ جَرَمْتُ۔میں سے ردی لوگ اجرامی (یعنی میرا جرم) الرَّجُلُ حَاجَتَهُ ظَهَرْتَ بِحَاجَتِي وَجَعَلْتَنِي ظِهْرِيًّا۔وَالظُّهْرِيُّ هَا هُنَا أَنْ تَأْخُذَ مَعَكَ دَابَّةٌ أَوْ وَعَاءً تَسْتَظْهِرُ بِهِ اَرَاذِلُنَا (هود: ۲۸) سُقَاطُنَا۔الْفُلك (هود: ۳۸) وَالْفَلَكُ وَاحِدٌ مصدر ہے أَجْرَمْتُ کا اور اُن میں سے بعض وَهْيَ السَّفِينَةُ وَالسُّفُنُ مَجْرَاهَا کہتے ہیں کہ جَرَمْتُ ( کا مصدر ہے)۔الفُلت مَدْفَعُهَا وَهُوَ مَصْدَرُ أُجْرِيَتْ، اور انفلت ایک ہی ہیں یعنی کشتی اور کئی کشتیوں وَأَرْسَيْتُ حَبَسْتُ، وَيُقْرَأُ مَجْرَاهَا مِنْ کو بھی کہتے ہیں۔مَجْرَاهَا کے معنی ہیں دھکا دے 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق یہاں باب نہیں ہے بلکہ یہ عبارت گذشتہ باب کے تسلسل میں ہی ہے (فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۴۴۷)