صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 413 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 413

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۳ ۶۵ - كتاب التفسير / هود وَبِيَدِهِ الْمِيزَانُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ۔کا عرش پانی پر ہے اور اُس کے ہاتھ میں میزان ہے۔جسے جھکا بھی رہا ہے اور اُٹھا بھی رہا ہے۔أطرافه: ٥٣٥٢ ، ٧٤١١، ٧٤١٩، ٧٤٩٦۔اعتريك (هود: ٥٥) افْتَعَلْتَ مِنْ اعْتَرَيكَ لفظ عَرَى سے افتعل کے وزن پر ہے، عَرَوْتُهُ أَيْ أَصَبْتُهُ وَمِنْهُ يَعْرُوهُ جیسے عَرَوْتُہ ہے یعنی اس کو میں نے پالیا اور اس وَاعْتَرَانِي۔أَخِذُ بِنَاصِيَتِهَا (هود: ٥٧) سے يَغرُوهُ (وہ اس کو پکڑ لیتا ہے ) اور اعتراني أَيْ فِي مِلْكِهِ وَسُلْطَانِهِ، عَنِيلٌ (اس نے مجھے آپکڑا) ہیں۔اخِذُ بِنَاصِيَتِهَا سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کے قبضہ قدرت اور (هود: ٦٠) وَعَنُودٌ وَعَائِدٌ وَاحِدٌ هُوَ تسلط میں ہے۔عَنِيَّدٌ ، عَنُودٌ اور عَانِدٌ ایک ہی تأكيدُ التَّجَبُرِ۔وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ ہیں۔(یعنی سرکش، مخالف) عَنِيدٌ لفظ جَبَّار (هود:۱۹) وَاحِدُهُ شَاهِدٌ مِثْلُ صَاحِبِ کے بعد بطور تاکید کے ہے۔وَيَقُولُ الْأَشْهَادُ وَأَصْحَابِ اسْتَعْمَرَكُمْ (هود: ٦٢) میں اَشْهَادُ کا مفرد شاہد ہے۔جیسے صاحب کی جَعَلَكُمْ عُمَّارًا أَعْمَرْتُهُ الدَّارَ فَهِيَ جمع أَصْحَاب ہے۔استَعمر کم کے معنی ہیں تم کو عُمْرَى جَعَلْتُهَا لَهُ۔نَكَرَهُمُ (هود: (۷۱) آباد کرنے والے بنایا۔کہتے ہیں أَعْمَرُ تْهُ الدَّارَ وَأَنْكَرَهُمْ وَاسْتَنْكَرَهُمْ وَاحِدٌ میں نے اس کو گھر میں آباد کیا۔آباد گھر کو کہتے ہیں عُمْرَى أَمَرْتُهُ الدَّارَ ) یعنی اس کو گھر عمر حَمِيدٌ مَجِيدٌ (هود: ٧٤) كَأَنَّهُ فَعِيلٌ بھر کے لیے دے دیا۔نَكَرَهُم ، أَنْكَرَهُمْ اور اسْتَنْكَرَهُمْ کے ایک ہی معنی ہیں۔(اس نے مِنْ مَاجِدٍ، مَحْمُودٌ مِنْ حَمِدَ۔سجيل (هود: ۸۳) الشَّدِيدُ الْكَبِيرُ، انہیں نہ پہچانا۔) حَمِيدٌ مَّجِيدٌ فعیل کے وزن سجيل وَسِحِينَ وَاحِدٌ وَاللَّامُ وَالنُّونُ پر ہیں۔مجید کے معنی ہیں ماجد (یعنی بزرگ) اور أُخْتَانِ، وَقَالَ تَمِيمُ بْنُ مُقْبِلِ: حمید کے معنی محمود ہیں (یعنی جس کی بہت تعریف کی جائے) یہ حَمِدَ سے ہے۔سجیل کے معنی ہیں سخت اور بڑا۔سینجیل اور سچین کے ایک ہی معنی ہیں۔”ل“ اور ”ن“ دو ایسے حروف ہیں جو ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں۔اور تمیم بن مقبل شاعر نے کہا ہے: