صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 412 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 412

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۲ ۶۵ - كتاب التفسير / هود بقطع مِنَ الَّيْلِ سے مراد رات کی تاریکی ہے۔ جس سے اشارہ اس آیت کی طرف ہے جس میں بدظنی پیدا ہونے کا ذکر ہے اور پھر کہا گیا ہے کہ یہ لوگ صبح ہوتے ہی ہلاک کئے جائیں گے۔ پوری آیت یہ ہے : قَالُوا يَلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعِ مِنَ الَّيْلِ وَلَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ أَحَدٌ إِلَّا امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبَهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ) (هود: ۸۲) (اس پر) انہوں نے کہا ( یعنی مہمانوں نے) کہ اے لوط ! ہم یقیناً تیرے رب کے فرستادہ ہیں اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ تجھ تک ہر گز نہیں پہنچیں گے (ان کی تباہی کا وقت آچکا ہے) اس لیے تو رات کے کسی حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر تیزی سے ( یہاں سے) چلا جا اور تم میں سے کوئی (فرد بھی) ادھر اُدھر نہ دیکھے ( اس طرح سے تم محفوظ رہو گے ) ہاں تیری بیوی ایسی ہے کہ جو (عذاب) اُن پر آیا ( ہوا ہے ) وہ اس پر بھی یقیناً آنے والا ہے۔ اُن کا مقررہ وقت (آئندہ) صبح ہے (اور) کیا صبح قریب نہیں ہے ؟ لفظ أنيب اور أَرْجِع مترادف المعنی ہیں۔ وَ إِلَيْهِ أُنِيبُ اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ لفظ انابت کے مفہوم میں بچوں کی طرح مامتا کی محبت کی وجہ سے اس کی گود میں جانا مراد ہے۔ انبیاء کے لئے منیب اور أَنَابَ وغیرہ کے جو الفاظ قرآن مجید میں آئے ہوئے ہیں، انہی معنوں میں ہیں۔ بَاب : وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ (هود : ۸) اور اُس کا عرش پانی پر ہے ٤٦٨٤ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۶۸۴ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ نے ہمیں خبر دی کہ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے اعرج سے ، اعرج نے حضرت ابوہریرہ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عز و جل فرماتا ہے : خرچ کر وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْفِقْ میں بھی تجھ پر خرچ کروں گا اور آپؐ نے فرمایا: أُنْفِقْ عَلَيْكَ وَقَالَ يَدُ اللهِ مَلْأَى لَا اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے کوئی خرچ اس کو گھٹاتا تَغِيضُهَا نَفَقَةٌ سَحَاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ نہیں ہے، رات دن اس کے فیض (بارش کی طرح جاری ہیں اور آپ نے فرمایا: تم نے دیکھا وَقَالَ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ کہ جب سے اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ فَإِنَّهُ لَمْ يَغِضْ مَا تب سے کتنا کچھ خرچ کیا ہے۔ پھر بھی اس خرچ فِي يَدِهِ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ نے جو اس کے ہاتھ میں ہے گھٹایا نہیں اور اُس