صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 411 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 411

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۱ ۶۵ - كتاب التفسير / هود قَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ اَلَّا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ ( بن دینار) نے ہم سے بیان کیا۔ اُنہوں نے کہا: صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ اَلَا حِينَ حضرت ابن عباس نے یہ آیت پڑھی: الا انهم يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمُ (هود: ٦) و قَالَ يَثْنُونَ ۔۔۔ یعنی سنو! وہ یقیناً اپنے سینوں کو اس غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْتَغْشُونَ لیے موڑتے رہتے ہیں کہ اس سے چھے رہیں سنو ! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں۔ اور عمر و يُغَطَّونَ رُءُوسَهُمْ سِيءَ بِهِمْ (هود: ۷۸) بن دینار کے سوا اوروں نے حضرت ابن عباس سَاءَ ظَنُّهُ بِقَوْمِهِ ، وَضَاقَ بِهِمْ (هود: ۷۸) سے نقل کیا: يَسْتَغْشُونَ کے معنی ہیں وہ اپنے بِأَضْيَافِهِ۔ بِقِطْعِ مِنَ الَّيْلِ (هود: ۸۲) سروں کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ سی بھم کے معنی بِسَوَادٍ۔ {وَقَالَ مُجَاهِدٌ } إِلَيْهِ ہیں وہ اپنی قوم سے بدگمان ہوا۔ وَضَاقَ بِهِمْ أنِيبُ (هود: ۸۹) أَرْجِعُ۔ کے معنی ہیں کہ اس نے اپنے مہمانوں سے تنگی محسوس کی۔ بقطع مِنَ الَّيْلِ کے معنی ہیں تاریکی میں۔ اور مجاہد نے کہا: إِلَيْهِ أُنِيبُ کے معنی ہیں میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اطرافه: ٤٦٨١ ، ٤٦٨٢ - یکا و و تشريح : أَلَّا إِنَّهُمْ يَتْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ۔۔۔۔ يه آيت مع ترجمه عنوان باب میں ابھی گزر چکی ہے ، اسی طرح مشکل الفاظ کے معنی بھی۔ اس باب کے تحت تین روایتیں ہیں۔ جن میں فقرہ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ کی شرح سے متعلق اختلاف و اختلاف و وضاحت ہے۔ ان میں اس جملہ کا مفہوم التغطية یعنی چھپنا مروی ہے اور بتایا گیا ہے کہ عربوں میں رواج تھا کہ قضاء حاجت اور مباشرت کے وقت کپڑا اوڑھ لیا جاتا تھا۔ خدا تعالیٰ اور ملائکہ سے عرب شرماتے، مبادہ وہ عریانی کی حالت میں دیکھے جائیں۔ اُن کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ اللہ تعالی سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ گویا آیت میں اس قسم کے خیال کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے تو سینوں کی پوشیدہ در پوشیدہ بات بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔ چہ جائیکہ انسان کا ظاہر اُس سے پوشیدہ رہے۔ مذکورہ بالا باب میں ساری آیت نقل کی گئی ہے تا کہ فقرہ يثنون صُدُورَهُمْ کا مفہوم اپنے سارے سیاق و سیاق و سباق سے واضح ہو جائے۔ تیسری روایت سے يثنون کا يَثْنُونَ کا معنی الفاظ يَسْتَغْتُ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُم اور يم يُغَطُونَ سے کھول دیا گیا ہے۔ تا اس کلام سے متعلق کسی قسم کا شبہ نہ رہے۔ تیسری روایت میں بیٹی بھھ کا مفہوم سَاءَ ظَنہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کو گمان ہوا کہ مہمانوں کی آمد خیر و برکت والی آمد معلوم نہیں ہوتی۔ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرُعًا میں ضمیر لو ھم مہمانوں سے متعلق ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کو اُن کی آم آمد سے انقباض ہو ا مبارہ وہ کسی شر کا پیش خیمہ ہوں۔ ا یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزء ۸ حاشیہ صفحہ ۴۴۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ محاورة كلا