صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 410
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / هود بْنِ صَبَّاحٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ قَالَ کیا کہ حجاج (بن محمد اعور ) نے ہمیں بتایا۔ کہتے ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ تھے : ابن جریج نے کہا: محمد بن عباد بن جعفر نے جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ أَلَا مجھے بتایا کہ اُنہوں نے حضرت ابن عباس کو یہ إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قَالَ سَأَلْتُهُ آیت یوں پڑھتے سنا: أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَونِي عَنْهَا فَقَالَ أَنَاسٌ كَانُوا يَسْتَحْيُونَ صُدُورُھم ۔ کہتے تھے: میں نے اُن سے اِس أَنْ يَتَخَلَّوْا فَيُفْضُوا إِلَى السَّمَاءِ وَأَنْ آیت کی نسبت پوچھا۔ تو انہوں نے کہا: کچھ لوگ يُجَامِعُوا نِسَاءَهُمْ فَيُفْضُوا إِلَى تھے کہ قضاء حاجت کرنے سے شرماتے کہ کہیں السَّمَاءِ فَنَزَلَ ذَلِكَ فِيهِمْ۔ اطرافه: ٤٦٨٢ ، ٤٦٨٣ - آسمان کے سامنے ننگے نہ ہو جائیں۔ ایسے ہی اپنی بیویوں سے ہم بستر ہوتے وقت بھی شرماتے کہ کہیں آسمان کے سامنے ننگے نہ ہو جائیں۔ تو یہ آیت اُن کے متعلق نازل ہوئی۔ ٤٦٨٢ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ ۴۶۸۲ : ابراهيم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ مُوسَى أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ہشام نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے ابن جریج سے وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ روایت کی اور محمد بن عباد بن جعفر نے مجھے بتایا کہ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَرَأَ أَلَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي حضرت ابن عبا عباس نے اس آیت کو یوں پڑھا: آکا صُدُورُهُمْ قُلْتُ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ مَا إِنَّهُمْ تَثْنَوْنِي صُدُورُهُمْ (محمد بن عباد کہتے تھے) تَقْنَوْنِي صُدُورُهُمْ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ میں نے پوچھا: ابو العباس! تَثْنَونِي صُدُورُهُمْ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ فَيَسْتَحِي أَوْ يَتَخَلَّى سے کیا مراد ہے؟ کہنے لگے: آدمی اپنی بیوی سے فَيَسْتَحِي فَنَزَلَتْ اَلَّا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ ہم بستر ہوتا تو شرماتا یا وہ بیت الخلاء میں جاتا تو شرماتا۔ اس لئے یہ آیت نازل ہوئی یعنی سنو ! وہ صُدُورَهُمْ (هود: ٦ ) ۔ اطرافه: ٤٦٨١ ، ٤٦٨٣۔ یقیناً اپنے سینوں کو اس لیے موڑتے رہتے ہیں۔ ٤٦٨٣ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ۴۶۸۳: (عبد اللہ بن زبیر) حمیدی نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرُو قَالَ بیان کیا۔ ہمیں سفیان بن عیینہ ) نے بتایا کہ عمرو