صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 409 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 409

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۹ ۶۵ - كتاب التفسير / هود تبتَجِس کے معنی ہیں تحرك، لا تبت کے معنی ہیں تو غم نہ کر ، دل گیر نہ ہو۔طبری نے بسند ابن ابی نجیح مجاہد سے یہ معنی نقل کیے ہیں۔اسی طرح بسند قتادہ وغیرہ بھی یہی معنی منقول ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۲) اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے : وَ أوحى إلى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ مَنَ فَلَا تَبْتَبِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ ) (ھود:۳۷) اور نوح کی طرف (یہ بھی) وحی کی گئی تھی کہ جو (لوگ) ایمان لا چکے ہیں ان کے سوا تیری قوم میں سے (اب) کوئی اور شخص تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لائے گا۔اس لئے جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس کی وجہ سے تو افسوس نہ کر۔ވ ވ މހ ވ۔يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ : يَثْنُونَ کا مفہوم شَكٍّ وَامْتِرَاء فِي الْحَقِّ ہے۔یعنی حق کے بارہ میں شک و تردد۔ليَسْتَخْفُوا مِنْهُ أَى مِنَ اللَّهِ إِنِ اسْتَطَاعُوا تا وہ اللہ سے بحد امکان چھپے رہیں۔شک و تردد کا یہ مفہوم مجاہد نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے شبہات کو سینوں میں تہہ بہ تہہ کر کے لپیٹا ہوا ہے۔تا اُن کا اندرونہ اللہ تعالیٰ پر ظاہر ہونے نہ پائے۔طبری نے بھی یہ شرح مجاہد سے کئی راویوں کے ذریعہ بسند ابن ابی نجیح نقل کی ہے اور بسند معمر قتادة سے یہ مروی ہے کہ نہایت پوشیدہ بات وہ ہوتی ہے جو انسان اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کپڑا اوڑھ کر خاموش ہو جائے۔بایں ہمہ اللہ (يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ) جانتا ہے جو وہ چھپائیں یا ظاہر کریں اور بسند عکرمہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی یہ شرح نقل ہے کہ اپنے سینوں میں اس شک کو چھپائے رکھتے ہیں جو انہیں ہستی باری تعالیٰ کی نسبت ہے اور اسی طرح اپنی بدکاری بھی۔جیسے کوئی شے کپڑے میں لپٹی لپٹائی رکھی ہو۔بحالیکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں سب باتیں ظاہر و باطن یکساں ہیں۔کوئی بات بھی اس سے مخفی نہیں رہ سکتی اور لفظ الفنی سے حق کے بارہ میں شک وشبہ مراد ہے۔نیز حق سے اعراض و روگردانی۔امام ابن حجر نے اس تعلق میں ایک بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ الفاظ کی یہ مذکورہ بالا شرح ابوذر والے نسخہ بخاری میں مقدم رکھی گئی ہے اور باقی نسخوں میں یہ شرح مؤخر ہے، لفظ اقلیعی کے بعد آتی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۲) باب ۱ الا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُ وَرَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ، اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُم يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (هود: ٦) سنو! وہ یقیناً اپنے سینوں کو اس لیے موڑتے رہتے ہیں کہ اُس سے چھپے رہیں۔سنو ! جس وقت وہ اپنے کپڑے اوڑھتے ہیں ( تو اس وقت بھی ) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں اُسے وہ جانتا (ہوتا) ہے۔وہ یقینا سینوں کی باتوں کو (بھی) خوب جانتا ہے۔٤٦٨١ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ ۴۶۸۱: حسن بن محمد بن صباح نے ہم سے بیان