صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 408 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 408

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۸ ۶۵ - کتاب التفسیر هود دے دیتے ہیں۔گویا ہاتھ پاؤں اُنکے بندھ گئے ہیں، کچھ نہیں کر سکتے۔کہتے ہیں: عَصَبَ يَوْهُنَا يَعْصِبُ عَصَبًا أَي اشْتَدَّ - يَوْم سے مراد معرکہ حرب ہے کیونکہ وہ بہت سخت ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۴۲) مذکورہ بالا الفاظ ، اشارہ اس آیت کی طرف ہے : وَ لَمَّا جَاءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِي بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَ قَالَ هَذَا يَوْمُ عَصِیب (هود: ۷۸) اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے تو ان کی وجہ سے اسے غم ہوا اور اس نے دل میں تنگی محسوس کی اور کہا آج کا دن (بہت) سخت معلوم ہوتا ہے۔يَوْم عَصِیب سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قوم لوط دونوں قسم کی سزاؤں سے تباہ ہوئی۔عَذَابٌ صَيْحَة سے جو شدید اور اچانک حملہ پر دلالت کرتا ہے اور زلزلے سے بھی، جیسا کہ سورۃ الحجر کی شرح میں زیر لفظ الصَّيْحَةُ اس کا ذکر آئے گا۔لا جرم کے معنی ہیں بلی یعنی ہاں ضرور۔یہ معنی بھی بواسطہ مذکورہ بالا سند حضرت ابن عباس ہی سے مروی ہیں۔طبری کا قول ہے۔جرم کے معنی دراصل ارتکاب جرم کے ہیں۔پھر فقرہ لا جرم کثرت سے لا بُدَّ کے معنوں میں استعمال ہونے لگا۔یعنی اس سے چارہ نہیں یا ضرور ایسا ہی ہو گا۔تا کوئی گناہ کا ارتکاب نہ ہو یا الزام نہ آئے۔جیسا کہ کہتے ہیں: لَا جَرَمَ أَنَّكَ ذَاهِب۔ضرور آپ جائیں گے تاکسی قسم کا الزام عائد نہ ہو اور بمعنی حق بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی سچ سچ جیسے کہتے ہیں۔لَا جَرَمَ نَتَقُومَنُ یعنی آپ سچ سچ ضرور کھڑے ہوں ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۲) لفظ لا جرم سے یہ آیت مراد ہے: لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْأَخْسَرُونَ (هود:۲۳) قطعی (بات) ہے کہ آخرت میں وہی (سب سے ) زیادہ گھاٹا پانے والے ہوں گے۔وَفَارَ التَّنُّورُ: التنور کے معنی ہیں چشمے۔یعنی پانی کے چشمے۔فار کے معنی ہیں پھوٹ پڑے۔عکرمہ نے کہا: التَّنُّورُ کے معنی ہیں سطح زمین۔وحاق کے معنی ہیں اور وہ اُترا۔اس کا مضارع تحیقی ہے یعنی وہ نازل ہوتا ہے۔ابو عبیدہ نے اللہ تعالی کے قول وَحَاقَ بِھر کی یہ شرح کی ہے کہ اُن پر عذاب نازل ہوا اور انہیں ملا۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۲) اس لفظ سے یہ آیت مراد ہے: وَلَبِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَعْدُودَةٍ لَيَقُولُنَ مَا يَحْبِسُهُ أَلَا يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفَ عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِمُونَ ) (هود: (۹) اور یہ (بھی) قطعی امر ہے کہ اگر ہم اس عذاب کو ایک اندازہ کی ہوئی مدت تک اُن سے پیچھے ہٹائے رکھیں تو وہ ضرور کہیں گے (کہ) کون سی بات اسے روک رہی ہے۔سنو ! جس وقت وہ اُن پر آئے گا تو ان سے ہٹایا نہیں جائے گا اور جس عذاب پر وہ ہنسی کرتے تھے وہ انہیں گھیر لے گا۔فقرہ حاق بھند کے وہی معنی ہیں جو احیظہ بھر کے ہیں یعنی ایسی ہلاکت ہو گی کہ بچنے کی کوئی راہ نہیں ملے گی۔يَئُوس: لفظ ینسٹ سے ہے یہ صیغہ مبالغہ فَعُول کے وزن پر ہے۔جس کے معنی ہیں غایت درجہ نااُمید۔اس سے اگلی آیت مراد ہے: وَلَين اذقْنَا الْإِنْسَانَ مِنَا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَوسٌ كَفُورُن (هود: (۱۰) اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے (کسی قسم کی ) رحمت ( کا مزا ) چکھائیں (اور) پھر ہم اس سے اُسے ہٹالیں تو وہ بہت ہی ناامید ( اور ) منکر احسان ہو جاتا ہے۔ج