صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 407 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 407

۶۵ - کتاب التفسير / هود صحیح البخاری جلد ۱۰ ( یہ ) دیکھتے ہیں کہ سوائے ان لوگوں کے جو سرسری نظر میں ہم میں سے حقیر ترین ( نظر آتے ہیں کسی نے تیری پیروی (اختیار) کی ہو۔اور ہم اپنے اوپر تمہاری ( کسی قسم کی کوئی فضیلت نہیں دیکھتے بلکہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو۔وَقَالَ مُجَاهِدُ الْجُودِي جَبَل بِالْجَزِيرَة : مجاہد نے کہا: جو دی عراق عرب میں ایک پہاڑ ہے۔اس کا ذکر کتاب احادیث الانبیاء باب ۳ میں گزر چکا ہے۔وَقَالَ الْحَسَنُ إِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِيمُ : تم تو بڑے ہی حلیم ہو۔حلیم کے معنی عقلمند ، شریف، صابر، متحمل مزاج ہیں۔حسن بصری کے نزدیک یہ فقرہ مذاقیہ اور بطور استهزاء ہے۔حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم آپ سے کہتی تھی: قَالُوا لِشُعَيْبٌ اَصَلوتُكَ تَأمُرُكَ أَنْ تَنْكَ مَا يَعْبُدُ بَاؤُنَا أَوْ أَنْ تَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشْؤُا إِنَّكَ لَأَنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ قَالَ يُقَومِ اَرَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيْنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أَخَالِفكُم إلى مَا أَنْهُكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِى إِلَّا بِاللهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ أَنِيبُ (هود: ۸۸، ۸۹) انہوں نے کہا: اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ جس چیز کی ہمارے باپ دادا پرستش کرتے (آئے) ہیں اُسے ہم چھوڑ دیں یا اس بات کو ترک کر دیں) کہ اپنے مالوں کے متعلق ہم جو چاہیں کریں (اگر ایسا ہے) تو تو یقینا بڑا ہی منظمند (اور) سمجھدار (آدمی) ہے۔اس نے کہا: اے میری قوم! (بھلا) بتاؤ تو سہی) اگر (ثابت ہوا کہ) میں (اپنے دعوی کی بناء) اپنے رب کی طرف سے (عطا شدہ) کسی روشن دلیل پر (رکھتا) ہوں اور اس نے اپنے حضور سے مجھے اچھا ( اور پسندیدہ رزق دیا ہے ( تو گل خدا کے حضور کیا جواب دو گے ؟) اور میں نہیں چاہتا کہ جس بات سے تمہیں روکوں (اس سے تم رک جاؤ اور خود میں) تمہارے خلاف اسی (بات ) کا قصد کروں میں تو سوائے اس حد تک ) اصلاح کے جس کی مجھے طاقت ہے کچھ نہیں چاہتا اور میرا توفیق پانا اللہ ہی کے فضل اور رحم) سے (وابستہ) ہے اسی پر میر ابھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں بار بار جھکتا ہوں۔وا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَقْلِعِي أَمسكي : حضرت ابن عباس نے کہا کہ لفظ اقلعی کے معنی ہیں تھم جاؤ، ادھر ادھر ہٹ جاؤ۔اس سے یہ آیت مراد ہے : وَقِيلَ يَاَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ وَيُسَمَاءُ أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاءِ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِي وَقِيلَ بُعدًا لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ) (هود) (۴۵) اس کے بعد (زمین سے بھی) کہہ دیا گیا (کہ) اے زمین تو (اب) اپنے پانی کو نگل جا اور (آسمان سے بھی کہ) اے آسمان (اب) تو ( برسنے سے) تھم جا۔اور پانی کو جذب کر دیا گیا اور (یہ) معاملہ ختم کر دیا گیا۔اور وہ کشتی جودی پر ( جا کر) ٹھہر گئی اور کہہ دیا گیا کہ (اے عذاب کے فرشتو!) ظالم لوگوں کے لیے ہلاکت مقدر کردو۔قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَصِيْبٌ شَدِيدٌ : حضرت ابن عباس نے عَصِیب کے معنی سخت کے کیے ہیں۔ابن ابی حاتم نے بسند ابن ابی طلحہ یہ معنی اُن سے روایت کیے ہیں اور طبری نے بھی یہی معنی مجاہد، قتادہ وغیرہ سے کئی سندوں کا حوالہ دے کر بیان کیے ہیں۔اس تعلق میں راجز شاعر کا یہ قول بطور شہادت پیش کیا گیا ہے: يَوْمٌ عَصِيبٌ يَعْصِبُ الْأَبْطَالَا یہ وہ نہایت سخت (معر کے کا) روز ہے کہ جو بہادروں پر بھی سخت گراں ہے کیونکہ قدم آگے بڑھنے سے جواب