صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 406
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / هود ۱۱- سُورَةُ هُودٍ وَ قَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ الْأَوَّاهُ اور ابو میسرہ ( بن شرحبیل) نے کہا: أَواه حبشی زبان الرَّحِيمُ بِالْحَبَشِيَّةِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاس میں رحیم کو کہتے ہیں (یعنی بہت ہی مہربان) اور بادِيَ الرّأي (هود: (۲۸) مَا ظَهَرَ لَنَا۔حضرت ابن عباس نے کہا: بادی الداری کے معنی ہیں وَقَالَ مُجَاهِدٌ : الْجُودِيّ (هود: (٤٥) جو ہمیں ظاہرا دکھائی دیتا ہے اور مجاہد نے کہا: الْجُودِي جَبَلْ بِالْجَزِيرَةِ۔وَقَالَ الْحَسَنُ إِنَّكَ ( دجلہ اور فرات کے درمیان ) جزیرہ میں ایک پہاڑ لانْتَ الْحَلِيمُ (هود: ۸۸) يَسْتَهْزِئُونَ ہے۔اور حسن (بصری) نے کہا: (کفار کا کہنا کہ) تم تو بِهِ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ اقْلِعِی (هود: (٤٥) بڑے بردبار ہو۔وہ اُس کی جنسی اُڑاتے تھے۔اور حضرت ابن عباس نے کہا: اقلیمی کے معنی ہیں تھام وَحَاقَ أَمْسِكِي۔عَصِيْبٌ (هود: ۷۸) شَدِيدٌ۔لے۔عَصِیب کے معنی ہیں سخت ، لاجرم کے معنی لا جرم (هود: ۲۳) بَلَى وَفَارَ التَّنُّورُ ہیں ضرور۔وَفَارَ التَّنُّورُ کے معنی ہیں پانی پھوٹ نکلا (هود: (٤١) نَبَعَ الْمَاءُ۔وَقَالَ عِكْرِمَةُ اور عکرمہ نے کہا کہ النور کے معنی) سطح زمین وَجْهُ الْأَرْضِ وَقَالَ غَيْرُهُ وَحَاقَ (کے ہیں) اور عکرمہ کے سوا اوروں نے کہا: وحاق (هود: ٩) نَزَلَ، يَحِيقُ (فاطر: ٤٤) کے معنی ہیں اور وہ اترا، یحیی کے معنی ہیں وہ اتر تا يَنْزِلُ، يَنُوسٌ فَعُولٌ مِنْ يَسْتُ۔ہے۔يَقُوش فعول کے وزن پر ہے۔پیسٹ سے وَقَالَ مُجَاهِدٌ تَبْتَبِسُ (هود: (۳۷) یعنی میں مایوس ہو گیا اور مجاہد نے کہا: تبتپش کے تَحْزَنْ يَثْنُونَ صُدُورَهُم (هود: (٦ معنی ہیں غمگین ہو۔يَخْنُونَ صُدُورَهُمْ سے مراد شَكٍّ وَامْتِرَاء فِي الْحَقِّ لِيَسْتَخْفُوا ہے حق بات میں شک و شبہ کرنا۔لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ مِنْهُ (هود: (٦) مِنَ اللَّهِ إِنِ اسْتَطَاعُوا سے مراد ہے کہ اگر ہو سکے تو اللہ سے چھپالیں۔شريح : وَقَالَ أَبُو مَيْسَرَةَ الْأَوَاهُ: يه حبشی زبان (جو ای ال اصل زبان ہے) میں رحیم کا مترادف ہے، یعنی اس کے ہم معنی۔یعنی دل گداز اور دردناک، بار بار رحم کرنے والا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ بَادِيَ الرَّأْي ما ظَهَرَ لَنَا: یعنی جو ہمیں نظر آتا ہے۔پوری آیت یہ ہے: فقال الْمَلَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَوْمِهِ مَا نَرْبكَ إِلَّا بَشَرًا مِثْلَنَا وَمَا نَرَيكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْي وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ بَلْ نَظْكُم كَذِبِينَ (هود: (۲۸) اِس پر اُن بڑے لوگوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے (اس کا انکار کیا تھا (اسے) کہا (کہ) ہم تجھے اپنے جیسے ایک آدمی کے سوا (کچھ) نہیں سمجھتے۔اور نہ ہم