صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 405 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 405

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۵ ۶۵ - کتاب التفسير / یونس آج تیرہ سو سال بعد ہمارے زمانہ میں فرعونِ موسیٰ کی نعش بصورت مومیا آثار عتیقہ کے عجائب خانہ واقع قاہرہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔میں نے بھی اسے دیکھا ہے جب تحصیل علم عربی کے لیے قاہرہ گیا تھا۔یہ انیسویں صدی کی شہادت بینہ ہے کہ قرآن کریم کی تنزیل فی الواقع رب العالمین کی طرف سے ہے۔کسی کو ساتویں صدی میں کیا علم کہ فرعون کی لاش سمندر سے باہر نکالی اور محفوظ رکھی گئی ہے۔عرب کی اُمّی قوم تو ان باتوں سے جاہل مطلق تھی۔was the one who was the Pharaoh of the Exodus۔As long as their mummies remain preserved, either of the two will always testify to the truth of the Quranic prophecy۔Their names are of no real consequence۔" (Revelation Rationality Knowledge and Truth, Unveiling of the 'Unseen' by the Quran-A Historic perspective, page 575, 576) ترجمہ: مزید برآں مسئلہ یہ ہے کہ رعمسیس ثانی کی ممی کی حالت کے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کی شہادت یہ ہے کہ اس نے توے سال عمر پائی اور اپنی زندگی کے آخری تمیں سال انتہائی نقاہت، کمزوری اور غالباً شریانوں کے سکڑنے کی امراض کے باعث بستر علالت پر گزارے۔عین ممکن ہے کہ اس کی یہ حالت اس کے ڈوب کر مرنے کے قریب پہنچ جانے کے بعد ایک بلا واسطہ نتیجہ کے طور پر ہوئی ہو جس کی وجہ سے اس کا دماغ آکسیجن کی مناسب مقدار نہ مل سکنے کی وجہ سے مستقلاً مفلوج ہو گیا ہو۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام کی مصر میں واپسی کے بعد کی زندگی کو قرآن کریم اور بائیبل دونوں نے بیحد مصروف قرار دیا ہے اور فرعون کے ساتھ ان کا مقابلہ کم و بیش دس سال پر محیط دکھائی دیتا ہے کیونکہ بیان کردہ معجزات تمام کے تمام ایک یا دو سال کی محدود مدت میں سمیٹے نہیں جا سکتے۔اس کے برعکس مورخین کے اندازہ کے مطابق تاجپوشی سے وفات تک منفتاح کا سارا عہد حکومت آٹھ سال یا اس سے بھی کم مدت پر مشتمل ہے۔مزید بر آن تاریخ بتاتی ہے کہ منفتاح ایک جنگجو بادشاہ تھا جو کئی سال فلسطینیوں پر مسلسل حملے کرتارہا۔جبکہ قرآن کریم اور بائیبل دونوں ہی فرعون موسیٰ کے اسرائیل پر ایسے حملوں کے بارہ میں مکمل طور پر خاموش ہیں۔لیکن یہاں اس معاملہ کی تفصیل میں جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہی ہے کہ یہ خروج رعمسیس ثانی کے دور میں ہوا یا منفتاح کے دور میں۔جب تک دونوں کی ممیاں محفوظ ہیں، دونوں ہی ہمیشہ کے لئے قرآنی پیشگوئی پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہیں گے۔ناموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔