صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 402
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۲ ۲۵ - کتاب التفسير / یونس ٤٦٨٠: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۶۸۰ محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ ہم سے غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ ابوبشر سے ، ابو بشر نے سعید بن جبیر سے، سعید عَبَّاسٍ رَضِى اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فَقَالُوا هَذَا میں آئے اور یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔کہنے لگے : یہ وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰ يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرعون پر غالب آئے۔تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: موسیٰ کے ساتھ تمہارا لِأَصْحَابِهِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُمْ تعلق ان یہودیوں سے بڑھ کر ہے اس لیے تم فَصُومُوا۔أطرافه ،۲۰۰٤ ، ۳۳۹۷ ، ٣٩٤٣، ٤٧٣٧۔بھی روزہ رکھو۔۔۔۔۔شريح: وَجُوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاء يُلَ الْبَحْرَ۔۔ننشین کے معنی ہیں ہم تیرا بدن اونچی جگہ پر پھینک دیں گے۔تجوة کے معنی ہیں زمین کی سطح مرتفع۔ابو عبیدہ نے اس کے معنی مطلق ارتفاع یعنی بلندی کیے ہیں۔نَجوَةٌ لفظ ربوة کا مترادف (ہم معنی) ہے۔اس کی جمع نیجا ہے گویا اُن کے نزدیک نُنَجِيكَ کے یہ معنی نہیں کہ ہم تجھے نجات دیں گے۔یعنی غرق ہونے سے بچ جائے۔لے بعض کے نزدیک اس لفظ سے بچایا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اور اسلام کی دیگر ادیان پر فضیلت بیان کرتے ہوئے آیت كريم فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَانِكَ (یونس: ۹۳) کا ذکر کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید عالم الغیب خدا کی طرف سے نازل ہو ا ہے۔آپ نے بیان فرمایا ہے کہ "It should be especially noted here that contrary to this Quranic statement, the Biblical account does not as much as hint at the possibility of the retrieval of Pharaoh's body: one of them remained۔' not so much as Hence, till the time the Quran mentions the saving of Pharaoh's body with the purpose that the posterity may learn their lesson from it, no human source of history had ever referred to it۔This account of the Quran is unique also in the sense that it does not merely reveal some past events which were till then unknown to the rest of the world, but it also prophesises that the