صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 402 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 402

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۲ ۶۵ - كتاب التفسير / یونس ٤٦٨٠ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۴۶۸۰ : محمد بن بشار نے مجھے بتایا کہ ہم سے غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي نے بیان کیا کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ ابو بشر سے، ابوبشر نے سعید بن جبیر سے، سعید عَبَّاسٍ رَضِى اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ وَالْيَهُودُ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فَقَالُوا هَذَا میں آئے اور یہود عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ کہنے يَوْمٌ ظَهَرَ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ لَگے: یہ وہ دن ہے جس میں حضرت موسیٰ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرعون رعون پر غالب آئے۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: موسیٰ کے ساتھ تمہارا لأَصْحَابِهِ أَنْتُمْ أَحَقُّ بِمُوسَى مِنْهُم تعلق ان یہودیوں سے بڑھ کر ہے اس لیے تم فَصُومُوا ۔ أطرافه: ۲۰۰۴ ، ۳۳۹۷، ٣٩٤٣، ٤٧٣٧۔ بھی روزہ رکھو۔ تشريح : وَجُوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَائِيلَ الْبَحْرَ ۔۔۔۔ ننيك کے معنی ہیں ہم تیرا بدن اور ن اونچی جگہ پر پھینک دیں گے۔ نجوۃ کے معنی ہیں زمین کی سطح مرتفع ابو عبیدہ نے اس کے معنی مطلق ارتفاع یعنی بلندی کیے ہیں۔ نَجوَةٌ لفظ ربوة کا مترادف ( ہم معنی) ہے۔ اس کی جمع نجا ہے گویا ان کے نزدیک تنجيكَ کے یہ معنی نہیں کہ ہم تجھے نجات دیں گے۔ یعنی غرق ہونے سے بچ جائے۔ لے بعض کے نزدیک اس لفظ سے بچایا 1 حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم اور اسلام کی دیگر ادیان پر فضیلت بیان کرتے ہوئے آیت کریمہ فَالْيَوْمَ نُنَجِيكَ بِبَدَنِكَ (یونس : ۹۳) کا ذکر کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن مجید عالم الغیب خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ آپؐ نے بیان فرمایا ہے کہ "It should be especially noted here that contrary to this Quranic statement, the Biblical account does not as much as hint at the not so much as possibility of the retrieval of Pharaoh's body: one of them remained۔' Hence, till the time the Quran mentions the saving of Pharaoh's body with the purpose that the posterity may learn their lesson from it, no human source of history had ever referred to it۔ This account of the Quran is unique also in the sense that it does not merely reveal some past events which were till then unknown to the rest of the world, but it also prophesises that the