صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 401
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۲۵ - کتاب التفسير / یونس فریابی نے اس آیت کی یہ شرح مجاہد سے نقل کی ہے اور اُن کے سوا ( غالباً قتادہ نے) زِيَادَةٌ سے النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ اللہ یعنی دیدار الہی مراد لی ہے۔طبری نے بھی اُن سے بسند سعید بن ابی عروبہ یہی مفہوم نقل کیا ہے: الخشئى هي الجنَّةُ وَالزَّيَادَةُ النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ الرَّحْمَنِ۔یعنی الحسنی سے مراد جنت ہے اور زیادتی سے مر اور جمن خدا کا دیدار نصیب ہونا ہے۔مسند عبد الرزاق میں بھی بسند معمر قتادہ سے یہی تفسیر مروی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۹) الكبرياء کے معنی ہیں الٹنٹ یعنی بادشاہت۔یہ مفہوم عبد بن حمید نے مجاہد ہی سے بسند ابن ابی نجیح نقل کیا ہے۔فراء نے قول و تَكُونَ لَكُما الكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ کی شرح میں کہا ہے کہ جب نبی صادق سمجھا جاتا ہے تو اپنی مملکت کی چابیاں اسے سونپی جاتی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۰) اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ارکان قوم کا قول نقل کیا ہے : قَالُوا أَجِثْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ أَباءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكَبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لكما بِمُؤْمِنِینَ (یونس: ۷۹) انہوں نے کہا: کیا تو (اس لیے ) ہمارے پاس آیا ہے کہ جس بات پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اس سے ہمیں ہٹا دے اور تم دونوں کو ملک میں بڑائی (حکومت) حاصل ہو جائے اور ہم تو تم پر ہر گز ایمان نہیں لائیں گے۔بَغْيًا وَ عَدوا: یہ دونوں الفاظ ابو عبیدہ کے نزدیک لغت میں بوجہ حال ہونے کے منسوب ہیں۔بمعنی بَاغِيْنَ مُتَعَدِينَ یعنی فرعون اور اس کے لشکروں نے باغی و ظالم ہونے کی حالت میں اُن کا تعاقب کیا اور یہ مفعول لاجلہ بھی ہو سکتے ہیں۔یعنی بغاوت وعداوت کی وجہ سے اُن کا پیچھا کیا۔حسن بصری کی قرآت عَدُوًّا کی عَدُوٌّ و کی شد سے ) ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۴۰) باب ۲ وَجوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاءِيلَ الْبَحْرَ فَأَتْبَعَهُم فِرْعَوْنَ وَجُنُودُهُ بَغْيَا وَ عَدْوًا حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ أَمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاءِ يْلَ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ (يونس: ٩١) اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر پار لے گئے اور فرعون اور اس کی فوجیں شرارت اور دشمنی سے اُن کے پیچھے گئے۔آخر جب وہ غرق ہونے لگا تو اُس نے کہا کہ میں ایمان لایا کہ اُس ذات کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی فرمانبر داروں میں سے ہوں تنجيك (يونس:۹۳) نُلْقِيكَ عَلَى نُنَجِّيكَ کے معنی ہیں ہم تجھے کسی اونچی زمین پر نَجْوَةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَهُوَ النَّشَرُ ڈال دیں گے اور تجوة اونچی اور بلند جگہ ہے۔الْمَكَانُ الْمُرْتَفِعُ۔