صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 403 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 403

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۴۰۳ ۲۵ - کتاب التفسير / یونس جانا ہی مراد ہے کہ تیرے ساتھی تو سمندر کی تہہ میں ہی رہیں گے اور ہم تیرے بدن کو نکال کر محفوظ رکھیں گے کہ تو دنیا کے لئے عبرت ہو۔ابن مسعود اور ابن سمينفع کی قرآت بجائے نُنَيْكَ كے نُنَخِيكَ ہے۔أَيْ نُلْقِيكَ بناحية یعنی تجھے ایک طرف الگ ڈال دیں گے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۴۱) future would testify to the truth of the Quranic statement۔It was implausible enough to conceive' that the body of Pharaoh having drowned in the conditions described by the Bible, could be retrieved۔The phenomenon of such a body, even if retrieved, would present no small problem for the purpose of mummification۔Yet, this is what the Quran claims۔No man could have dreamt of making such a statement contrary to the available historical evidence at the time of the revelation of the Quran It was many centuries after the revelation of the Quran that the earth began to throw up its secrets۔The mummified bodies of all the Pharaohs which can claim to be the Pharaohs of the time of Moscsas have been retrieved۔whether it is established that the Pharaoh in question died from drowning, only his body being retrieved, or whether he was rescued from a state of near death while drowning, the miracle of the Quranic statement is in no way obscured۔The body of that Pharaoh was indeed preserved and this fact was brought to the knowledge of posterity exactly as the Quran had predicted۔" (Revelation Rationality Knowledge and Truth, Unveiling of the 'Unseen' by the Quran-A Historic perspective, page 571, 572, 574) ترجمہ : یہاں یہ امر بالخصوص توجہ طلب ہے کہ قرآنی بیان کے بر عکس بائیبل کے بیان میں فرعون کی جسمانی نجات کے امکان کا کوئی اشارہ تک نہیں ملتا۔کیونکہ بائیبل کے مطابق ان میں سے ایک بھی نہ بچا۔چنانچہ قرآن کریم ، پہلے کسی انسانی تاریخ میں اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ فرعون کے جسم کو اس لیے بچایا گیا تا کہ وہ آئندہ سے نسلوں کے لیے باعث عبرت ہو۔قرآن کریم کا یہ بیان اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ نہ صرف بعض گزشتہ واقعات کا انکشاف کرتا ہے جو اُس وقت تک دنیا کو معلوم نہ تھے بلکہ وہ یہ پیشگوئی بھی کرتا ہے کہ مستقبل بھی ان بیانات کی تصدیق کرے گا۔اس وقت اس بات کا تصور بھی محال تھا کہ بائیبل کے بیان کردہ حالات کی رو سے غرق ہونے کے بعد فرعون کا جسم بچالیا گیا ہو۔لیکن بفرض محال اگر اسے بچا بھی لیا جاتا تو بھی ممی کا ذکر بجائے خود ایک عجوبہ سے کم نہ تھا۔بایں ہمہ قرآن کریم بعینہ یہی دعویٰ کرتا ہے۔نزولِ قرآن کے زمانہ میں کوئی آدمی ایسا بیان دینے کے بارہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا جو اس وقت کے موجود تاریخی شواہد کے اتنابرعکس ہوتا۔نزولِ قرآن سے کئی صدیاں بعد زمین نے اپنے بھید کھولنا شروع کیے اور اب تک حضرت موسی الی کے عہد سے منسوب تمام فرائین کی حنوط شدہ لاشیں نکالی جاچکی ہیں۔