صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 400
صحیح البخاری جلد ۱۰ لد۔۔ ۶۵ - كتاب التفسير / یونس پوری آیت یہ ہے: در دَعُونَهُمْ فِيهَا سُبْحَنَكَ اللهُمَّ وَ تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَمٌ وَاخِرُ دَعْوَانَهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (یونس: 11) اُن ( جنتوں میں ) اُن کی پکار یہ ہو گی ۔ اے اللہ ! تو پاک ہے اور (ایک دوسرے کے لیے ) اُن کی دعا یہ ہو گی کہ تم سلامتی میں رہو اور ان کی آخری پکار یہ ہو گی کہ اللہ رب العالمین سب خوبیوں کا مستحق ہے۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ انسان کی ترقی و معراج کا منتہی وہ مقام ہے جہاں اس کی آنکھ ربوبیت کا ملہ کا مشاہدہ کر کے اس کی حمد و ثنا کا اقرار کرنے کے لیے مجبور ہو جاتی ہے اور اس کی روح آستانہ الہی پر بے اختیار گر جاتی ہے۔ وَ لَوْ يُعَجِّلُ اللهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ : مجاہد نے اس آیت کی یہ شرح بیان کی ہے کہ انسان غصے میں اپنی اولاد اور اپنے مال و دولت کی ہلاکت و بربادی کا بدخواہ ہوتا ہے اور بد دعا کرتا ہے۔ اگر اللہ ایسے لوگوں کی بد دعا اسی طرح قبول کرنے لگے جس طرح خیر و برکت کی دعا قبول کرتا ہے، لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ تو جلد ہی لوگوں کا خاتمہ ہو جائے۔ پوری آیت یہ ہے : وَ لَوْ يُعَجِلُ اللهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ إِلَيْهِمُ أَجَلُهُمْ فَنَذَارُ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ (یونس : ۱۲) اور اگر اللہ لو اگر اللہ لوگوں کی بد دعا اسی طرح جلدی سے قبول کرے جس طرح وہ اپنے لیے بھلائی کی دعا جلد قبول کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو ان کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ (مگر چونکہ ہم ایسا پسند نہیں کرتے) اس لیے اُن لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی اُمید نہیں رکھتے ہم اس حالت میں چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں سرگرداں پھرتے رہیں۔ آیت کی یہ تفسیر فریابی، عبد بن حمید وغیرہ نے بسند ابن ابی ابی صحیح نقل کی ہے اور طبری سے بھی یہی مفہوم مروی ہے کہ جس طرح وہ بھلی باتوں میں لوگوں کی دعائیں اور نیک خواہشات قبول فرماتا ہے۔ اگر اُن کی بد دعائیں اور بری خواہشیں پوری کرتا تو اب تک وہ ہلاک ہو چکے ہوتے۔ قتادہ نے کہا کہ اس سے مراد انسان کی اپنی جان و مال کے لیے وہ دعا ہے جو وہ پسند نہیں کرتا کہ قبول ہو ایسی دعا ممنوع ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۹) جیسا کہ امام مسلم اور ابو داؤد نے اس بارہ میں ایک حدیث نبوی بھی حضرت جابر سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ لَا تُوَافِقُوا مِنَ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَاءٌ فَيَسْتَجِيبَ لكم ۔ یعنی تم اپنے آپ پر بد دعا نہ کرو اور نہ اپنی اولاد پر اور نہ اپنے مالوں پر مبادا تم اللہ سے اس گھڑی میں موافقت کر بیٹھو جس میں اللہ سے جو عطا کیے جانے کی دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہو جاتی ہے۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى : پوری آیت یہ ہے : لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَ زِيَادَةٌ ۖ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوهَهُمْ قَتَرُ وَ لَا ذِلَّةٌ أُولَئِكَ أَصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ (یونس : (۲۷) اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے نیکوکاری اختیار کی بہترین انجام ہو گا اور (اس پر) مزید ( انعامات بھی۔) اُن کے چہروں پر نہ غبار چھائے گا اور نہ ذلت (کے آثار ہوں گے ) یہ لوگ جنت کے مکین ہیں (اور ) اس میں رہتے چلے جائیں گے۔ زیادہ سے مراد ان کے اعمال کی نیک جزا ( وَ مِثْلُهَا حُسْنَى) ویسی دو چند جزا بصورت مغفرت و رضامندی۔ (مسلم، کتاب الزهد والرقائق، باب حديث جابر الطويل) (ابو داؤد، کتاب الصلاة، ابواب الوتر، باب النهي عن أن يدعو الانسان، على أهله وماله)