صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 399 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 399

صحيح البخاری جلد ۱۰ ٣٩٩ ۶۵ - کتاب التفسير / یونس حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خبر دار !!! تم غیر قوموں کو دیکھ کر اُن کی ریس مت کرو کہ اُنہوں نے دنیا کے منصوبوں میں بہت ترقی کرلی ہے۔آؤ ہم بھی انہی کے قدم پر چلیں۔سنو اور سمجھو کہ وہ اس خدا سے سخت بے گانہ اور غافل ہیں جو تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔اُن کا خدا کیا چیز ہے۔صرف ایک عاجز انسان۔اس لیے وہ غفلت میں چھوڑے گئے۔میں تمہیں دنیا کے کسب اور حرفت سے نہیں روکتا۔مگر تم اُن لوگوں کے پیرومت بنو۔جنہوں نے سب کچھ دنیا کو ہی سمجھ رکھا ہے۔چاہیے کہ تمہارے ہر ایک کام میں خواہ دنیا کا ہو خواہ دین کا خدا سے طاقت اور توفیق مانگنے کا سلسلہ جاری رہے لیکن نہ صرف خشک ہو نٹوں سے بلکہ چاہیے کہ تمہارا سچ سچ یہ عقیدہ ہو کہ ہر ایک برکت آسمان سے ہی اُترتی ہے۔تم راستباز اس وقت بنو گے جبکہ تم ایسے ہو جاؤ کہ ہر ایک کام کے وقت ہر ایک مشکل کے وقت قبل اس کے جو تم کوئی تدبیر کرو اپنا دروازہ بند کرو اور خدا کے آستانہ پر گرو کہ ہمیں یہ مشکل پیش ہے۔اپنے فضل سے مشکل کشائی فرماتب روح القدس تمہاری مدد کرے گی اور غیب سے کوئی راہ تمہارے لیے کھولی جائے گی۔اپنی جانوں پر رحم کرو اور جو لوگ خدا سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں اور ہمہ تن اسباب پر گر گئے ہیں۔یہاں تک کہ طاقت مانگنے کے لیے وہ منہ سے انشاء اللہ بھی نہیں نکالتے۔اُن کے پیرومت بن جاؤ خدا تمہاری آنکھیں کھولے، تا تمہیں معلوم ہو کہ تمہارا خدا تمہاری تمام تدابیر کا شہتیر ہے۔اگر شہتیر گر جائے تو کیا کڑیاں اپنی چھت پر قائم رہ سکتی ہیں۔نہیں بلکہ یک دفعہ گریں گی۔“ کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۳) یاد رہے کہ ایمان کلمہ پڑھنے کا نام نہیں بلکہ ان باتوں پر عمل کا نام ہے ، جو کلمہ طیبہ کی روح ہے۔أحِيطَ بِهِمْ کے معنی ہیں ہلاکت کے قریب پہنچ گئے۔یہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۳۹) سورة البقرة آیت ۸۲ کا حوالہ دے کر امام بخاری نے اس مفہوم کی وضاحت کی ہے۔فرماتا ہے: احاطت یہ خطہ یعنی گناہوں نے اُسے چاروں طرف سے گھیر لیا اور اس کے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں رہنے دی۔احیط پہ کے معنی ہیں وہ ہلاک ہونے والا ہے۔دعوبُهُمْ کے معنی ہیں دُعاؤ ٹھنڈہ یعنی ان کی دعا و پکار ، یہ معنی ابو عبیدہ سے مروی ہیں (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۹)