صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 398
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - کتاب التفسير / یونس اسباب پر نازاں اور اُن سے مطمئن ہیں۔اُن کی ذہنی حالت غیر مستحضر باری تعالیٰ اور اس کے وجود و احسان کو فراموش کیے ہوتی ہے۔اس ذہنی کیفیت پر ضمیر غائب ھو دلالت کرتی ہے۔مگر جب بادِ مخالف کے تند جھونکے کشتی کو بھنور میں ڈال دیتے ہیں۔دَعوا اللهَ مُخْلِصِین تو وہ اخلاص سے اللہ کو پکارتے ہیں۔اُن کا ذہن فوراً حاضر باش ہوتا اور اُن کے ہوش و حواس اپنے ٹھکانے پر آجاتے اور اپنے حقیقی کار ساز کو اخلاص سے پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں۔لین اَنْجَيْتَنَا مِنْ هذِهِ یعنی اگر تو نے ہمیں اس ہلاکت سے نجات دی تو ہم تیرے شکر گزار اور شکر مند ہوں گے۔یعنی مصیبت کے وقت انسان فطرتا وجود باری تعالیٰ اور اس کی توحید کا اقرار کرتا ہے۔امام بخاری نے بحوالہ شرح ابو عبيدة بن مثنى أيتُ الكتب الحکیم کا مفہوم اور توحید باری تعالیٰ کا فطرتی اقرار بیان کر دیا ہے۔پوری آیت یہ ہے: هُوَ الَّذِي يُسَيْرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْجٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَ تَهَا رِيحُ عَاصِفُ وَ جَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أَحِيطَ بِهِمْ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَبِنْ انْجَيْتَنَا مِنْ هَذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشکرین (یونس : ۲۳) وہی ہے جو تمہیں خشکی اور سمندر میں چلاتا ہے۔یہاں تک کہ جب تم لوگ کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور وہ ساز گار ہوا کے ذریعہ سے اُن (لوگوں) کو لے کر چلتی ہیں اور وہ ان پر اتراتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔اسی حالت میں اچانک ایک تند و تیز ہوا آجاتی ہے اور ہر طرف سے موجیں اُن پر لپکتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب وہ گھر گئے (یعنی ہلاک ہونے لگے ) تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں اُسی کے لیے اطاعت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں۔(کہتے ہیں) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دی تو ہم ضرور ہی تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔ایمان و عمل صالحہ تمام کامیابیوں کے دو اہم رکن ہیں۔ایمان ہو اور عمل نہ ہو یا عمل ہو اور ایمان نہ ہو تو کامیابی صحیح معنوں میں حاصل نہیں ہوتی۔مغربی دنیا نے مادی لحاظ سے غیر معمولی ترقی ہے عقل سے کام لیا، سابقہ تجربوں سے فائدہ اٹھایا اور پوری محنت کی۔قواعد و ضوابط مرتب کیے۔ملکی نظم و نسق میں دانشمندی سے کام لیا۔غرض ہر فن میں کمال حاصل کیا۔مادی ترقی کے لحاظ سے یہ عمل تو ہے مگر چونکہ ایمان باللہ نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ نہ اُن کا کر دار حقیقی معنوں میں صحت مند ہے نہ اُن کی صنعت و حرفت اور تجارت معاشرہ بنی نوع انسان کے لیے من حیث المجموع بابرکت ہے بلکہ اخلاق سوز ہے۔کیونکہ اس کی دہریت اور بولہی نے دنیا کو لقمہ نار و حجیم بنایا ہوا ہے۔دنیا کی بینائی تو ہے مگر دین کی بینائی سے گو ر ہے جس سے ایمان صادق پید اہوتا اور عمل کو عملِ صالحہ بناتا ہے۔فن زراعت کو لیجئے ، روس نے اس میں بہت بڑی ترقی کی ہے اور کیمونزم نے جو آج کل اشتراکیت و دہریت کا دوسرا نام ہے۔کچھ عرصہ ہو ابلند و بانگ دعوے کیے تھے کہ ہر شخص کو بڑا با فراغت کھانے کے لیے میسر آجائے گا۔لیکن آج ان دعووں کا ماحصل کیا ہے۔کارکنوں کی حرص و آس اور طمع اور خشک سالی اور قحط کا یہ انجام ہے کہ چاولوں اور آلوؤں کی بھرجی کے لیے کھڑکیوں کے سامنے بھکاریوں کی قطاریں کھڑی ہیں اور انتظار کرنے کے بعد انہیں خوراک شبینہ بمشکل حاصل ہوتی ہے۔تقدیر الہی کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔یہی مضمون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اور توحید باری تعالیٰ کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔کی؟