صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 397 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 397

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۷ ۶۵ - كتاب التفسير يونس تعلق میں کوئی قول نقل نہیں کیا۔امام ابن حجر" کا خیال ہے کہ اس سے غالباً عقیدہ ابن اللہ کا بطلان مقصود ہے، جو توحید باری تعالیٰ کے خلاف ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۸) دراصل سورۃ یونس کا موضوع ہی توحید ہے۔پوری آیت یہ ہے : قَالُوا اتَّخَذَ اللهُ وَلَدً ا سُبُحْنَهُ هُوَ الْغَنِيُّ لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِنْ عِنْدَكُمْ مِنْ سُلْطِنِ بِهَذَا أَتَقُولُونَ عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ) (یونس: ۶۹) اُنہوں نے کہا: اللہ نے اپنے لیے اولاد اختیار کی ہے۔وہ اس سے پاک ذات ہے وہ بے نیاز ہے۔اُسی کا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔تمہارے پاس اس عقیدہ کی کوئی دلیل نہیں۔کیا تم اللہ کے متعلق ایسی بات کہتے ہو جس کا تمہیں (کچھ بھی) علم نہیں۔قدم صدق: اس کے دو معنی منقول ہیں۔ایک زید بن اسلم سے بسند ابن عیینہ ، حسن بصری و قتادہ، ابن جریر و طبری نے نقل کیے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لئے شفیع ہیں۔جیسا کہ سورۃ یونس کی اس سے اگلی آیت میں صراحت ہے کہ بدوں علم انہی کوئی شفیع نہیں ہو سکتا۔اس نفی سے ضمناً پایا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شفاعت کی اجازت دی گئی ہے۔دوسرے معنی خیر یعنی نیکی کے ہیں، جو مجاہد سے فریابی نے بسند ابن ابی نجیح نقل کیے ہیں۔علاوہ ازیں ابن جریر نے اپنی تفسیر میں مجاہد ہی سے قَدَمَ صِدْقٍ کی یہ شرح بھی نقل کی ہے کہ اُن کی نماز اور اُن کے روزے اور اُن کے صدقے اور اُن کی تسبیح اور اعمال صالحہ وغیرہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے : اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِندَ رَبِّھم دونوں معنی ہی درست ہیں۔اِن میں منافات نہیں۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۸) محولہ بالا آیات یہ ہیں: اگر تِلكَ انت الكتبِ الْحَكِيمِ وَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا أَنْ أَوْحَيْنَا إِلَى رَجُلٍ مِنْهُم ان انذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا انَ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ ، قَالَ الْكَفِرُونَ إِنَّ هَذَا السَحِرُ مُّبِينٌ) (یونس :۳،۲) میں اللہ دیکھنے والا ہوں۔یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔کیا لوگوں کے نزدیک ہمارا اُن میں سے ایک شخص پر ( یہ ) وحی کرنا عجیب امر ہے کہ لوگوں کو خطرہ سے آگاہ کرو اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں بشارت دو کہ اُن کے رب کے حضور ان کے لیے قدم صدق ہے۔کافروں نے کہا کہ یہ کھلا کھلا دھوکہ باز ہے۔تلك أيت الكتب : یعنی قرآن کی یہ آیات بطور علم اور دلائل ہیں، جن سے وجو د صفات باری تعالیٰ اور اس کی وحدانیت کا علم ہوتا ہے۔آیت کے معنی ہیں دلیل اور نشان جس سے کسی چیز کا علم حاصل ہو۔سورۃ یونس کا آغاز تسمیہ کے بعد جس آیت سے ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ پر حکمت و محکم کتاب کی آیات ہیں۔لفظ آیات بمعنی الاغلام ہے۔ابو عبیدہ بن مثنی اور سدی نے یہ شرح نقل کی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۸-۴۳۹) حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمُ : اس آیت میں خطاب كُنتُم کی وجہ سے جَرَيْنَ بِكُمْ ہونا چاہیے تھا۔یعنی جب کشتی تمہیں لے کر باد موافق کے ذریعہ سے چلی لیکن بجائے بکر کے پھر ضمیر ہے۔یہ اسلوب خطاب بظاہر قواعد نحو کے خلاف ہے۔مگر اس ضمیر غائب سے یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب سے غافل اور لا پرواہیں۔کشتی میں بیٹھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اُن کا مسبب الاسباب سے کوئی تعلق نہیں۔بلکہ وہ اپنے خود ساختہ