صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 20 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 20

۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ بَقْلِهَا وَقِقَابِهَا وَفُوْمِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا (البقرة: ۶۲) میں لفظ قوم کے معنی حضرت ابن عباس اور مجاہد سے گندم مروی ہیں اور فراء ادیب نے عطاء بن ابی رباح اور قتادہ کی سند سے ہر قسم کا اناج مراد لیا ہے، جس سے روٹی تیار کی جاسکے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۰۳) وَقَالَ قَتَادَة فَبَاءُو - فَانْقَلَبُوا قتادہ نے قباد کے معنی کئے ہیں وہ کوئے۔یہ معنی ان سے عبد بن حمید نے نقل کئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۲۰۳) یہ لفظ آیت بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوْا تِمَا أَنْزَلَ اللهُ بَغْيًا أَن يُنْزِلَ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ، فَبَاءُ وَ بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكُفِرِينَ عَذَابٌ تمهين (البقرة: 91) میں مذکورہ بالا معنوں میں وارد ہوا ہے۔وَقَالَ غَيْرُهُ يَسْتَفْتِحُونَ - يَسْتَنْصِرُونَ: یعنی مدد مانگتے ہیں۔استفتاح کے معنی مدد طلبی ابو عبیدہ اور حضرت ابن عباس سے مروی ہیں۔حضرت ابن عباس سے بجائے يَسْتَنْصِرُونَ کے يَسْتَظْهِرُونَ بھی مروی ہیں۔جس کے معنی ہیں اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کریں گے۔محمد بن اسحاق نے سیرت نبویہ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ عربی قبائل مدینہ نے زمانہ جاہلیت میں یہودیوں پر غلبہ حاصل کر لیا تھا۔تو یہودی کہا کرتے تھے کہ ایک نبی معبوث ہو گا جس کا زمانہ قریب ہے اور اس کی معیت میں ہم تمہیں قتل کریں گے۔جب اللہ نے وہ نبی معبوث فرمایا اور ہم نے اس کی پیروی کی اور یہود نے اس کا انکار کر دیا۔تو اس تعلق میں آیت وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَبٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَّا عَرَفُوا كَفَرُوْا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَفِرِينَ) (البقرة : ٩٠) نازل ہوئی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۴) اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب اُن کے پاس اللہ کی طرف سے ایک کتاب آئی جو اس (کتاب کی پیشگوئیوں) کو جو اُن کے پاس ہے سچا کرنے والی ہے تو باوجود اس کے کہ پہلے یہ لوگ اللہ سے) کافروں پر فتح پانے کی دعا) مانگا کرتے تھے ، جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جس کو انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کر دیا۔پس ایسے کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔لفظ يُسْتَفْتِحُونَ سے ان کے قول کا ذکر ہے کہ بعثت نبوی سے پہلے وہ غلبہ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور جب تم نے کہا: اے موسی! ہم ایک ہی کھانے پر ہر گز صبر نہیں کر سکیں گے پس ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر کہ وہ ہمارے لئے وہ چیز میں نکالے جو زمین لگاتی ہے، از قسم اپنی سبزیوں کے اور اپنی لکڑیوں کے اور اپنی گندم کے اور اپنی دالوں کے اور اپنے پیاز کے۔“ رو وو ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : بہت بُرا ہے جو انہوں نے اپنے نفوس بیچ کر ان کے بدلے میں حاصل کیا کہ اُس (حق) کا انکار کر رہے ہیں جو اللہ نے اُتارا۔اس بات کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل کرتا ہے۔پس وہ غضب پر غضب لیے ہوئے لوٹے اور کافروں کے لیے رسوا کن عذاب ( مقدر) ہے۔“ (السيرة النبوية لابن هشام ، انذار یهود برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جزء اول صفحه (۲۱۱)