صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 19
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة لفظ دل میں خیال گزرنے پر محمول کیا جائے گا۔ لا شِيَةَ فِيهَا : کوئی سفیدی نہیں۔ وَقَالَ غَيْرُهُ يَسُومُونَكُمْ : يَسُومُونَكُمْ کا معنی يُؤْلُونَكُمْ کرنے والے ابو عبید قاسم بن سلام ہیں اور ابو عبیدہ معمر بن شنی نے بھی یہی معنی کئے ہیں۔ سَامَهُ خَسْفًا کے معنی ہیں: اُس نے اسے ذلت پہنچائی، نقصان پہنچایا۔ سیع معلقات میں عمرو بن کلثوم کا مشہور شعر ہے: إِذَا مَا الْمَلِكُ سَامَ النَّاسَ خَسْفًا أَبَيْنَا أَنْ نَقِرَّ الْخَسْفُ فِيْنَا جب بادشاہ لوگوں کو ذلت و نقصان پہنچائے تو ہم انکار کر دیتے ہیں کہ ذلت ہم میں قرار نہ پائے۔ سوم کے معنوں میں دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ : يَدِيمُونَ تَعْذِيبَكُمْ تمہیں تکلیف دہ سزا دیتے رہتے تھے۔ ریوڑ کو سائمہ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ چرتا رہتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) علامہ طبری نے يَسُومُونَكُمْ کے معنی علاوہ يُولُونَ کے يُوْرِ دُونَ اور يُذِ يَقُوْنَ بھی کئے ہیں ہے اور یورڈ کے معنی گھاٹ پر پلانے کے لئے لایا۔ آذَاقَ ، يُذیق کے معنی چکھایا۔ پوری آیت یہ ہے : وَإِذْ نَجَيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَ كُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ (البقرۃ: اور ۵۰) وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات دی کہ وہ تمہیں بدترین عذاب دے رہی تھی۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر دیتی تھی اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتی تھی اور تمہارے رب کی طرف سے اس (بات) میں تمہارے لئے ) ایک بڑی آزمائش تھی۔ مصیبت جب انتہاء تک پہنچ جائے تو وہی مصیبت مردہ احساسات کو بیدار کرنے اور درماندہ قوم کو اٹھانے اور نجات دلانے کا باعث بن جاتی ہے۔ امام بخاری نے لفظ يَسُومُونَكُمْ کے تعلق میں اولی، یولی کے اشتقاق ولایۃ کا ذکر کیا ہے، جس سے ابو عبید کی تفسير يُولُونَكُمْ کی وضاحت مقصود ہے۔ ولی، بیلی - وارث ہوا، حاکم اور مالک (رب) بنا۔ وَلِی الْعَمَلَ - کار پرواز ہوا، کام کا سپر د کار بنا۔ سورۂ کہف میں الولاية وراثت اور حکومت کے معنوں میں وارد ہوا ہے ۔ فرماتا ہے: هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَ خَيْرٌ عُقْبان (الكهف: ۴۵) اس وقت معبود حقیقی ہی کی حکومت ہوگی اور وہی بہتر بدلہ دینے والا ہے۔ اور انجام کی رو سے نہایت اچھا ہے۔ غرض لفظ ولاية واؤ کی فتح سے ربوبیت کا اور ولایة واؤ کی کسرہ سے امارت کا مفہوم دیتا ہے۔ (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) آیت وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسَى لَنْ نَّصْبِرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجُ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ ا (شرح المعلقات السبع للزوزنى، معلقة عمر و بن كلثوم ، جزء اول صفحه ۲۳۵) (جامع البيان للطبرى، سورة البقرة آيت : يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، جزء اول صفحہ ۶۴۴) (مجاز القرآن، سُورَةُ الكهف آيت : هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ، جزء اول صفحه (۴۰۵)