صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 19 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 19

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۱۹ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة لفظ دل میں خیال گزرنے پر محمول کیا جائے گا۔لا شيَةَ فِيهَا: کوئی سفیدی نہیں۔وَقَالَ غَيْرُهُ يَسُومُونَكُمْ: يَسُومُونَكُمْ کا معنی يُولُونَكُمْ کرنے والے ابو عبید قاسم بن سلام ہیں اور ابو عبیدہ معمر بن مثنی نے بھی یہی معنی کئے ہیں۔سَامَهُ حَسَفًا کے معنی ہیں: اُس نے اسے ذلت پہنچائی، نقصان پہنچایا۔سیع معلقات میں عمرو بن کلثوم کا مشہور شعر ہے: إذَا مَا الْمَلِكُ سَامَ النَّاسَ خَسُفًا أبينا أَن نَقِرُ الْخَسْفُ فِيْنَا جب بادشاہ لوگوں کو ذلت و نقصان پہنچائے تو ہم انکار کر دیتے ہیں کہ ذلت ہم میں قرار نہ پائے۔سوھ کے معنوں میں دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ : يَدِيَمُونَ تَعْذِيْبَكُمْ۔تمہیں تکلیف دہ سزا دیتے رہتے تھے۔ریوڑ کو سائمہ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ چرتا رہتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) علامہ طبری نے يَسُومُونَكُمْ کے معنی علاوہ يُولُونَ کے يُؤرِ دُونَ اور يُذِيقُون بھی کئے ہیں کے اور یورڈ کے معنی گھاٹ پر پلانے کے لئے لایا۔اذاق، یذنٹی کے معنی چکھایا۔پوری آیت یہ ہے: وَاذْ نَجَيْنَكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَ كُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ وَفِي ذَلِكُمْ بَلَاءِ مِن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ (البقرة: ۵۰) اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات دی کہ وہ تمہیں بدترین عذاب دے رہی تھی۔تمہارے بیٹوں کو قتل کر دیتی تھی اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتی تھی اور تمہارے رب کی طرف سے اس (بات) میں (تمہارے لئے ) ایک بڑی آزمائش تھی۔مصیبت جب انتہاء تک پہنچ جائے تو وہی مصیبت مردہ احساسات کو بیدار کرنے اور درماندہ قوم کو اٹھانے اور نجات دلانے کا باعث بن جاتی ہے۔امام بخاری نے لفظ يَسُومُونَكُمْ کے تعلق میں آوئی، یوپی کے اشتقاق ولاية کا ذکر کیا ہے، جس سے ابو عبید کی تفسیر يُؤلُونَكُمْ کی وضاحت مقصود ہے۔ولی، یکی۔وارث ہوا، حاکم اور مالک (رب) بنا۔وَلِی الْعَمَل - کار پرداز ہوا، کام کا سپر د کار بنا۔سورۃ کہف میں الولاية وراثت اور حکومت کے معنوں میں وارد ہوا ہے۔فرماتا ہے: هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلهِ الْحَقِّ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَ خَيْر عُقبات (الکھف: ۴۵) اس وقت معبود حقیقی ہی کی حکومت ہوگی اور وہی بہتر بدلہ دینے والا ہے۔اور انجام کی رو سے نہایت اچھا ہے۔غرض لفظ وَلَايَة واؤ کی فتح سے ربوبیت کا اور ولاية واؤ کی کسرہ سے امارت کا مفہوم دیتا ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) آیت وَإِذْ قُلْتُمْ لِمُوسى لَن نَّضَيرَ عَلَى طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُثْبِتُ الْأَرْضُ مِنْ (شرح المعلقات السبع للزوزنى، معلقة عمرو بن كلثوم ، جزء اول صفحه ۲۳۵) (جامع البيان للطبری، سورة البقرة، آیت: يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ، جزء اول صفحه ۶۴۴) (مجاز القرآن، سُوْرَةُ الكهف، آیت: هُنَالِكَ الْوَلايةُ ، جزء اول صفحه (۴۰۵