صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 21 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 21

۲۱ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة صحیح البخاری جلد ۱۰ آیت وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ (البقرة: ۱۰۳) میں لفظ شروا کے معنی باغوا یعنی بیچ دیا۔ابو عبیدہ نے کئے ہیں۔کے ابن ابی حاتم نے بھی سدی سے یہی معنی بیان کیے ہیں۔اور آیت یایھا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انْظُرْنَا " (البقرة : ۱۰۵) میں رَاعِنَا لفظ رَعُونة سے مشتق ہے۔جس کے معنی ہیں حماقت۔غیر معقول گفتگو کے وقت یہ فقرہ مخاطب کے لئے بولا جاتا ہے۔لَا تَقُولُوا رَاعِنَا غیر معقول بات نہ کریں۔یہ تفسیر حسن بصری اور ابو حیوہ کی ہے اور ان سے الزاعِنُ: السخری کے معنی بھی مروی ہیں، یعنی مسخری کرنے والا۔راعنا: ہماری رعایت کریں۔ان معنوں کی رو سے لفظ ”راع" مُراعاة سے صیغہ فعل امر ہے اور ”ا“ ضمیر مفعول ہے۔ہمارا خیال رکھیں، ہمیں بھی بات کرنے دیں۔اس میں ضمناً تہکم واستخفاف پایا جاتا ہے کہ آپ اپنی کہتے جاتے ہیں ہماری نہیں سنتے۔اس تعلق میں بعض روایتیں بھی مروی ہیں کہ یہودی راعنا بولتے وقت ع کو اس طرح بولتے کہ رایعی مقصود ہوتا، یعنی چرواہا۔یا ان میں سے کوئی کہتا۔أَرْعِنِى سَمْعَكَ وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَع کان لگا کر میری بات کی طرف متوجہ ہوں اور سنیں، آپ کو سنانے کی ضرورت نہیں، دانا و بینا ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۴) بظاہر اس فقرہ میں ادب پایا جاتا تھا، لیکن دراصل مذاق تھا، جس کی ممانعت کر دی گئی۔امام بخاریؒ کے نزدیک یہ روایتیں مستند نہیں۔آیت وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِى نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْكَ وَلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ ) (البقرة: (۱۲۴) میں تجزی کے معنی لا تغنی کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا اور آیت يَايُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَدًا طَيْبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوتِ الشَّيْطَنِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ (البقرة : ١٦٩) اے لوگو ! جو کچھ زمین میں ہے اس میں سے جو کچھ حلال اور پاکیزہ ہے (اسے) کھاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو، وہ ط ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: بس بہت ہی بر اتھاوہ (عارضی فائدہ) جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانیں بیچ دیں، کاش کہ وہ جانتے۔(مجاز القرآن، سورة البقرة، آیت: مَاشَرَوُا بِهِ أَنْفُسَهُمْ ، جزء اول صفحه (۴۸) ( تفسير القرآن لابن أبي حاتم ، سورة البقرة، آيت: ما شَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ ، جزء اول صفحه ۱۹۵) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: ”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو (ہمارے رسول کو) راعنا “ نہ کہا کروبلکہ یہ کہا کرو کہ ہم پر نظر فرما۔“ (المفردات في غريب القرآن للراغب، كتاب الراء ، رعن، صفحه ۳۵۸) 2 (التفسير الكبير للرازي،سورة النساء، آیت: وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْع وَ رَاعِنَا، جزء ۱۰ صفحه ۹۴ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور نہ اس سے کوئی بدلہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی شفاعت اسے فائدہ دے گی اور نہ ہی وہ لوگ کوئی مدد دیئے جائیں گے۔“