صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 396
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۶ ۶۵ - كتاب التفسير / یونس مَنْ دُعِيَ عَلَيْهِ وَلَأَمَاتَهُ لِلَّذِيْنَ میں بھی جلدی کرے جیسا کہ وہ خیر جلدی سے اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى (يونس: (۲۷) مِثْلُهَا مانگتے ہیں، سے مراد انسان کا جب وہ غصے میں ہو، حُسْنَى وَزِيَادَةٌ (يونس: ۲۷) مَغْفِرَةٌ اپنی اولاد اور مال کے لئے یہ دعا کرنا ہے: اے وَرِضْوَانٌ وَقَالَ غَيْرُهُ النَّظَرُ إِلَى الله ! تو اس میں برکت نہ ڈال، اس پر لعنت کیجیو۔وَجْهِهِ الْكِبْرِيَاءُ (يونس: ۷۹) الْمُلْكُ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ یعنی جن کے لئے بددعا کی گئی ضرور وہ تباہ کر دیئے جاتے اور اُن کو مار ڈالا۔جاتا۔لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی (مجاہد نے کہا ) اس سے مراد یہ ہے کہ جن لوگوں نے اچھے کام کیے اُن کو اچھا بدلہ ملے گا ( اور اس کے بعد یہ جو فرمایا) و زيادة اس سے مراد مغفرت اور خوشنودی ہے اور (مجاہد کے ماسوا) دوسروں نے کہا: زیادتی سے مراد اُس کے منہ کا دیدار ہے۔الکبریاء سے مراد بادشاہی ہے۔تشریح: تفسیر سورۃ یونس کے تعلق میں مندرجہ ذیل الفاظ کی شرح نقل کی گئی ہے۔فَاخْتَلَطَ کے معنی بقول حضرت ابن عباس یہ ہیں کہ پانی سے مل کر ہر قسم کی روئیدگی زمین سے پیدا ہوئی۔یہ معنی ابن جریر نے اُن سے بسند ابن جریج نقل کیے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۸) لفظ فاختلط سے مراد یہ آیت ہے: اِنَّمَا مَثَلُ الْحَياةِ الدُّنْيَا كَمَاء أَنْزَلْنَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ - حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَدِرُونَ عَلَيْهَا أَنْهَا امرنا ليلا او نَهَارًا فَجَعَلْنَهَا حَصِيدًا كَانَ لَمْ تَغْنَ بِالأمْسِ كَذلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (یونس : ۲۵) حیات دنیا کی مثال تو اس پانی کی مانند ہے جسے ہم نے بادل سے نازل کیا۔پھر اس سے مل کر زمین کی روئیدگی پیدا ہوئی، جس سے آدمی اور چار پائے کھاتے ہیں۔یہاں تک کہ جب زمین اپنی دلر با زینت سے سنوری اور خوبصورت ہو گئی اور اس کے باشندوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر قادر ہیں تو ہمارا حکم دن کو یا رات کو اچانک آیا اور ہم نے اسے ایک کٹے ہوئے کھیت کی طرح کر دیا گویا کہ کل کچھ تھا ہی نہیں۔اسی طرح ہم اپنی آیات کو اُن لوگوں کے لئے کھول کر بیان کرتے ہیں، جو سوچ و بچار سے کام لیتے ہیں۔قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا سُبُحْنَة هُوَ الْغَنِيُّ: امام بخاری نے یہ آیت بلا تشریح ہی رہنے دی ہے اور اس