صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 395
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۵ ۶۵ - كتاب التفسير / یونس ١٠ - سُورَةُ يُونُسَ باب ۱ صا التوسل وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاخْتَلَطَ اور حضرت ابن عباس نے کہا: فَاخْتَلَطَ (به (يونس: ٢٥) فَنَبَتَ بِالْمَاءِ مِنْ كُلِّ نَبَاتُ الْأَرْضِ) کے معنی ہیں کہ پانی کے ذریعہ لَوْن وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدَ اسْبُحْنَهُ سے ہر ایک قسم کی روئیدگی پیدا ہوتی ہے۔ هُوَ الْغَنِيُّ ( يونس : ٦٩) وَقَالَ زَيْدُ بْنُ انہوں نے کہا کہ اللہ نے بیٹا بنایا ہے۔ وہ اس سے أَسْلَمَ أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ (یونس : (۳) پاک ذات ہے ، وہ بے نیاز ہے۔ اور زید بن اسلم مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ وَقَالَ نے کہا: أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدق سے مراد محمد می میریم مُجَاهِدٌ خَيْرٌ يُقَالُ تِلْكَ ايْتُ ہیں۔ اور مجاہد نے کہا: اس سے مراد خیر ہے۔ کہا (یونس : ۲) يَعْنِي هَذِهِ أَعْلَامُ الْقُرْآنِ جاتا ہے کہ تِلْكَ أَيتُ ( الْكِتٰبِ الْحَكِيمِ ) کے معنی وَ مِثْلُهُ حَتَّى إِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ ہیں یہ قرآن کے وہ نشان ہیں (جن سے اس کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔) اور اسی طرح یہ آیت وَ جَرَيْنَ بِهِمْ (یونس : ۲۳) الْمَعْنَى بھی ہے۔ یعنی یہاں تک کہ جب تم لوگ کشتیوں بِكُمْ۔ دَعُونَهُمْ (يونس: ۱۱) دُعَاؤُهُمْ۔ میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ اُن (لوگوں) کو بھی أحيط بهم ( يونس : ۲۳) دَنَوْا مِنَ الْهَلَكَةِ لے کر چل رہی ہوتی ہیں۔ بھم سے مراد بِكُمْ احاطت به خَطِيئَتُه (البقرة : ۸۲)۔ ہے یعنی تم کو۔ دَعْوَالُهُمْ کے معنی ہیں اُن کی فَاتَّبَعَهُمْ وَأَتْبَعَهُمْ وَاحِدٌ۔ عَدُوًّا پکار - أحِيطَ بِهِمْ کے معنی ہیں وہ ہلاکت کے (یونس: (۹۱) مِنَ الْعُدْوَانِ۔ وَقَالَ نزدیک پہنچ گئے۔ (جیسے) احَاطَتْ بِهِ خَطِيته مُجَاهِدٌ وَلَوْ يُعَجِلُ اللهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ یعنی اس کے گناہوں نے اس کو گھیر لیا۔ فَاتَّبَعَهُمْ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَيْرِ (یونس : (۱۲) قَوْلُ اور أَتْبَعَهُمْ کے ایک ہی معنی ہیں یعنی اُن کے الْإِنْسَانِ لِوَلَدِهِ وَمَالِهِ إِذَا غَضِبَ پیچھے لگا - عَدُوَّا عدوان کے معنی میں ہے یعنی ظلم اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ فِيهِ وَالْعَنْهُ لَقُضِيَ کرنا، حد سے گزرنا۔ اور مجاہد نے کہا: آیت و کو إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ (يونس: (۱۲) لَأُهْلِكَ يُعَجِلُ الله ۔۔۔ یعنی اگر اللہ لوگوں کے لئے شر