صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 394
صحيح البخاری جلد ۱۰ أَبُو ثَابِتٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ وَقَالَ مَعَ خُزَيْمَةَ أَوْ أَبِي خُزَيْمَةَ۔۳۹۴ ۶۵ - كتاب التفسير براءة وَقَالَ مُوسَى عَنْ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ نے اُن کو وفات دے دی پھر حضرت حفصہ بنت شِهَابٍ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ وَتَابَعَهُ عمرؓ کے پاس رہے۔(ابو الیمان کی طرح) عثمان يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ۔وَقَالَ بن عمر اور لیث (بن سعد ) نے یونس سے، یونس نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی اور لیث نے (اپنی سند میں) یوں کہا: مجھے عبد الرحمن بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔اور اُنہوں نے حضرت خزیمہ کی جگہ) حضرت ابوخزیمہ انصاری کے پاس“ کہا۔اور موسیٰ نے ابراہیم سے یوں نقل کیا کہ ابن شہاب نے ہم سے اپنی روایت میں یہ بیان کیا کہ حضرت ابو خزیمہ کے پاس۔اور موسیٰ بن اسماعیل) کی طرح یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے باپ (ابراہیم) سے یہ حدیث روایت کی۔اور ابو ثابت ( محمد بن عبید اللہ مدنی نے کہا: ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ اُنہوں نے یوں کہا: حضرت خزیمہ کے پاس یا حضرت ابو خزیمہ کے پاس۔أطرافه : ۲۸۰۷، ٤٠٤۹، ٤٧٨٤ ٤٩٨٦، ۱۹۸۸، ۱۹۸۹، ۷۱۹۱، ٧٤٢٥۔تشریح: لَقَد جَاءَكُمْ رَسُولُ مِنْ اَنْفُسِكُمْ : یہ سورۃ توبہ کی آخری آیت سے ماقبل کی آیت ہے، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں۔آپ کے صفات باری تعالیٰ کا کامل مظہر ہونے کی نسبت کچھ ذکر کتاب المناقب باب ۷ ا کی تشریح میں بھی گذر چکا ہے۔اس باب میں جمع قرآن کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے کہ آیات کریمہ کہاں کہاں سے دستیاب ہوئیں اور ان کا مقابلہ حفاظ قرآن کی یاد داشت سے کر کے انہیں قرآن مجید میں ترتیب دیا گیا اور یہ آیت حضرت خزیمہ انصاری کے پاس سے ملی۔اس روایت کے آخر میں عثمان بن عمر کی متابعت کا ذکر اور موسیٰ بن اسماعیل اور ابو ثابت محمد بن عبید اللہ مدنی کی سندوں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ بعض نے بجائے خزیمہ انصاری کے ابو خزیمہ نقل کیا ہے جو درست ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۳۷)