صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 393 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 393

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۳ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة مَا كَانَ أَثْقَلَ عَلَيَّ مِمَّا أَمَرَنِي بِهِ مِنْ لئے قرآن جہاں جہاں ہو تلاش کرو اور پھر اس جَمْعِ الْقُرْآنِ قُلْتُ كَيْفَ تَفْعَلَانِ کولے کر ایک جگہ جمع کر دو اور اللہ کی قسم ! اگر وہ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا مجھے مکلف کرتے تو مجھ پر یہ کام وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ اتنا بوجھل نہ ہوتا جتنا کہ یہ کام جس کے کرنے کے فَلَمْ أَزَلْ أُرَاجِعُهُ حَتَّى شَرَحَ اللهُ لئے اُنہوں نے مجھے حکم دیا یعنی قرآن جمع کرنا۔صَدْرِي لِلَّذِي شَرَحَ اللهُ لَهُ صَدْرَ میں نے کہا: آپ دونوں وہ کام کیسے کرتے ہیں جو أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقُمْتُ فَتَتَبَّعْتُ نبی صلی میری کم نے نہیں کیا۔حضرت ابو بکڑ نے فرمایا: الْقُرْآنَ أَجْمَعُهُ مِنَ الرِّقَاعِ وَالْأَكْتَافِ اللہ کی قسم وہ اچھا کام ہے۔میں ان سے بار بار کہتا رہا، یہاں تک کہ اللہ نے میر اسینہ اس امر کے لئے وَالْعُسُب وَصُدُورِ الرِّجَالِ حَتَّى کھول دیا جس کے لئے اللہ نے حضرت ابو بکر اور وَجَدْتُ مِنْ سُورَةِ التَّوْبَةِ آيَتَيْنِ مَعَ حضرت عمرؓ کا سینہ کھولا تھا۔میں کھڑا ہو گیا اور خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ لَمْ أَجِدْهُمَا مَعَ قرآن مجید کی تلاش کرنے لگا، اسے (چمڑے کے ) أَحَدٍ غَيْرِهِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ مِن پرچوں اور کندھے کی ہڈیوں اور کھجوروں کی انْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ ٹہنیوں اور لوگوں کے سینوں سے اکٹھا کرنے لگا۔عَلَيْكُمْ (التوبة: ۱۲۸) إِلَى آخِرِهَا یہاں تک کہ میں نے سورہ توبہ کی دو آیتیں حضرت خزیمہ انصاری کے پاس پائیں۔وہ اُن کے وَكَانَتِ الصُّحُفُ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا سوا میں نے کسی کے پاس نہ پائیں اور وہ یہ ہیں۔الْقُرْآنُ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُ۔۔۔یعنی تمہارے پاس تم ثُمَّ عِنْدَ عُمَرَ حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ میں سے ہی ایک رسول آیا اسے بہت سخت شاق عِنْدَ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ تَابَعَهُ عُثْمَانُ گزرتا ہے جو تم تکلیف اُٹھاتے ہو (اور) وہ تم پر بْنُ عُمَرَ وَاللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ (بھلائی چاہتے ہوئے) حریص (رہتا) ہے۔سورۃ کے آخر تک انہوں نے پڑھا) وہ ورق جن میں شِهَابٍ۔وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ قرآن مجید جمع کیا گیا تھا وہ حضرت ابو بکر کے پاس الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ رہے۔یہاں تک کہ اللہ نے اُن کو وفات دی۔وَقَالَ مَعَ أَبِي خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ پھر حضرت عمرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ اللہ