صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 392 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 392

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۲ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة ٤٦٧٩ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۶۷۹ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي نے ہمیں بتایا۔ اُنہوں نے زہری سے روایت کی ابْنُ السَّبَّاقِ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِي کہ اُنہوں نے کہا: ابن سباق نے مجھے خبر دی کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِمَّنْ يَكْتُبُ حضرت زید بن ثابت انصاری نے کہا، اور وہ اُن لوگوں میں سے تھے جو وحی لکھا کرتے تھے: الْوَحْيَ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ مَقْتَلَ حضرت ابو بکر نے مجھ کو جب یمامہ کے لوگ أَهْلِ الْيَمَامَةِ وَعِنْدَهُ عُمَرُ فَقَالَ أَبُو شہید کئے گئے، بلا بھیجا اور اس وقت اُن کے پاس بَكْرٍ إِنَّ عُمَرَ أَتَانِي فَقَالَ إِنَّ الْقَتْلَ حضرت عمرؓ تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا: عمر قَدِ اسْتَحَرَّ يَوْمَ الْيَمَامَةِ بِالنَّاسِ وَإِنِّي میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا: بیمامہ أَخْشَى أَنْ يَسْتَحِرَّ الْقَتْلُ بِالْقُرَّاءِ فِي کی جنگ میں لوگ بہت شہید ہو گئے ہیں اور مجھے الْمَوَاطِنِ فَيَذْهَبَ كَثِيرٌ مِنَ الْقُرْآنِ اندیشہ ہے کہ کہیں اور لڑائیوں میں بھی قاری نہ إِلَّا أَنْ تَجْمَعُوهُ وَإِنِّي لَأَرَى أَنْ مارے جائیں اور اس طرح قرآن کا بہت سا حصہ تَجْمَعَ الْقُرْآنَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ ضائع ہو جائے گا، سوائے اس کے کہ تم قرآن کو ایک جگہ جمع کر دو اور میری یہ رائے ہے کہ آپ لِعُمَرَ كَيْفَ أَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ يَفْعَلْهُ قرآن کو ایک جگہ جمع کریں۔ حضرت ابو بکر نے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فرمایا: میں نے عمرؓ سے کہا: میں ایسی بات کیسے فَقَالَ عُمَرُ هُوَ وَاللَّهِ خَيْرٌ فَلَمْ يَزَلْ کروں جو رسول اللہ صلی اللہ تم نے نہیں کی۔ عمرؓ نے عُمَرُ يُرَاجِعُنِي فِيهِ حَتَّى شَرَحَ الله کہا: اللہ کی قسم ! آپ کا یہ کام اچھا ہے۔ عمر مجھے لِذَلِكَ صَدْرِي وَرَأَيْتُ الَّذِي رَأَى بار بار یہی کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے اس کے عُمَرُ قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعُمَرُ عِنْدَهُ لئے میرا سینہ کھول دیا اور اب میں بھی وہی مناسب ريم سمجھتا ہوں جو عمرؓ نے مناسب سمجھا۔ حضرت زید جَالِسٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّكَ رَجُلٌ شَابٌ عَاقِلٌ وَلَا نَتَهِمُكَ وَكُنْتَ رض رض بن ثابت نے کہا اور اس وقت حضرت عمر اُن کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، بات نہ کرتے تھے۔ تَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ پھر حضرت ابو بکر نے فرمایا: تم جوان عقل مند عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَتَبَّعِ الْقُرْآنَ فَاجْمَعْهُ آدمی ہو اور ہم تم ہم تم پر کوئی بد گمانی نہیں کرتے۔ تم الله پر فَوَاللَّهِ لَوْ كَلَّفَنِي نَقْلَ جَبَلٍ مِنَ الْجِبَالِ رسول الله صلی علیم کے لئے وحی لکھا کرتے تھے اس