صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 391
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۱ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: وو چاند جب آفتاب کے مقابل میں ہوتا ہے تو اُسے نور ملتا ہے مگر جوں جوں اس سے کنارہ کشی کرتا ہے توں توں اندھیرا ہوتا جاتا ہے۔یہی حال ہے انسان کا جب تک اس کے دروازے پر گرا رہے اور اپنے آپ کو اس کا محتاج خیال کرتا رہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھاتا اور نوازتا ہے ورنہ جب وہ اپنی قوت بازو پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔سادھ سنگت بھی ایک ضرب المثل ہے۔پس یہ ضروری بات ہے کہ انسان باوجود علم کے اور باوجود قوت اور شوکت کے امام کے پاس ایک سادہ لوح کی طرح پڑا رہے تا اس پر عمدہ رنگت آوے۔سفید کپڑا اچھار نگا جاتا ہے اور جس میں اپنی خودی اور علم کا پہلے سے کوئی میل کچیل ہوتا ہے اس پر عمدہ رنگ نہیں چڑھتا۔صادق کی معیت میں انسان کی عقدہ کشائی ہوتی ہے اور اسے نشانات دیئے جاتے ہیں جن سے اس کا جسم منور اور روح تازہ ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۱۲۶،۱۲۵) (الحکم جلدے نمبر ۹ صفحه ۱۳ مورخه ۰ ار مارچ ۱۹۰۳ء) " صحبت میں بڑا شرف ہے۔اس کی تاثیر کچھ نہ کچھ فائدہ پہنچا ہی دیتی ہے۔کسی کے پاس اگر خوشبو ہو تو پاس والے کو بھی پہنچ ہی جاتی ہے۔اسی طرح پر صادقوں کی صحبت ایک روح صدق کی نفح کر دیتی ہے۔میں سچ کہتا ہوں کہ گہری صحبت نبی اور صاحب نبی کو ایک کر دیتی ہے یہی وجہ ہے جو قرآن شریف میں وَكُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبة: (۱۱۹) فرمایا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه ۲۰۹) (الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۶ء) 66 باب ۲۰: لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ (التوبة : ١٢٨) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) (اے مومنو) تمہارے پاس تمہاری ہی قوم کا ایک فرد رسول ہو کر آیا ہے تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے اور وہ تمہارے لیے خیر کا بہت بھوکا ہے اور مومنوں کے ساتھ محبت کرنے والا ( اور ) بہت کرم کرنے والا ہے مِنَ الرَّأْفَةِ۔( رَءُوفُ) رَأْفَةٌ سے ہے یعنی نرمی کرنا۔