صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 390
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۹۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى الله بیان کیا، آج کے دن تک میں نے عمداً جھوٹ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ نہیں بولا اور اللہ عز و جل نے اپنے رسول صلی ا یم وَالمُهْجِرِينَ إِلَى قَوْلِهِ وَ كُونُوا مَعَ پر یہ وحی نازل کی: اللہ نے نبی اور مہاجرین اور انصار پر بڑا فضل کیا ہے (یعنی ان لوگوں پر) الصُّدِقِينَ (التوبة: ١١٧ - ١١٩ )۔جنہوں نے اس (نبی) کی تکلیف کی گھڑی میں جبکہ ان میں سے ایک گروہ کے دل کسی قدر شک میں پڑگئے تھے اتباع کی پھر اس نے ان (کمزوروں) بھی فضل کر دیا وہ ان (مومنوں) سے یقیناً محبت کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اسی طرح اُن تینوں پر بھی (اس نے فضل کیا) جو کہ پیچھے چھوڑے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخی کے اُن پر تنگ ہو گئی اور اُن کے اپنے نفس بھی ان پر بار بن گئے اور انہوں نے خیال کیا کہ اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے سوائے اس کے اور کوئی پناہ نہیں تو ان کی حالت دیکھ کر اللہ نے ان پر فضل کیا تا کہ وہ بھی تو بہ میں اللہ یقیناً بار بار توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اے مومنو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور صادقوں (کی جماعت) کے ساتھ شامل ہو جاؤ۔أطرافه (۲۷۵۷ ،۲۹٤۷ ۲۹٤۸، ۲۹٤۹، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸ ،۳۰۰، ۳۸۸۹، ۳۹۵۱، ٤٤١٨، -۷۲۲۰ ،٤٤٦٧٣ ٤٤٦٧٦ ٤٦٧٧، ٢٥٥، ٦٦٩ تشریح: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصّدِقِيْنَ : سابقہ ابواب کے ہی تو شلل میں یہ باب اور اس کی روایت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ وَكُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ١١٩) بھی اُن تدابیر میں سے ایک تدبیر ہے، جس سے نفس انسانی اصلاح پذیر ہوتا ہے۔مشہور ہے کہ صحبت صالح ترا صالح کند۔