صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 388
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۸ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة الْقَمَرِ وَكُنَّا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ خُلِفُوا قبول ہو گئی ہے۔ کہنے لگیں: کیا میں اُس کے پاس عَنِ الْأَمْرِ الَّذِي قُبِلَ مِنْ هَؤُلَاءِ آدمی بھیج کر اسے بشارت نہ دوں۔ آپؐ نے فرمایا: الَّذِينَ اعْتَذَرُوا حِينَ أَنْزَلَ اللهُ لَنَا لوگ تمہارے پاس آکر تمہیں تھکا دیں گے اور التَّوْبَةَ فَلَمَّا ذُكِرَ الَّذِينَ كَذَبُوا ساری رات تمہیں سونے نہ دیں گے۔ جب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الترسر رسول الله صلى اللهم علی ایم نے صبح کی نماز پڑھائی تو آپ نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے اور الْمُتَخَلَّفِينَ فَاعْتَذَرُوا بِالْبَاطِلِ ذُكِرُوا آپ جب خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ چمک اٹھتا ایسا بِشَرِّ مَا ذُكِرَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ اللهُ کہ جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم تین آدمی وہ تھے سُبْحَانَهُ يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُم جن کا معاملہ موخر مؤخر کیا گیا تھا اُن لوگوں سے جنہوں إِلَيْهِمْ قُلْ لَا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ نے بہانے بنائے، جو قبول کر لیے گئے۔ جس وقت اور جب قَدْ نَبَّانَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى الله الله نے ہماری توبہ کی بابت وحی نازل کی اور عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ الْآيَةَ۔ (التوبة : ٩٤) پیچھے رہنے والوں میں سے اُن لوگوں کا ذکر کیا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ ہم سے جھوٹ بولا تھا اور باطل عذر پیش کیے تھے تو اُن کا ذکر نہایت ہی برا کیا گیا جو کبھی کسی کا کیا گیا ہو۔ یعنی اللہ سبحانہ نے فرمایا: جب تم اُن کی طرف لوٹو گے تو تمہارے پاس عذر کریں گے۔ تو کہہ عذر نہ کرو، ہم تمہاری ہرگز نہیں مانیں گے۔ اللہ نے ہمیں تمہارے اندرونے سے آگاہ کر دیا ہے اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارے عمل دیکھ لے گا۔ أطرافه : ۲۷٥٧، ۲۹۴۷، ۲۹۴۸، ۲۹۴۹، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸ ، ٣٥٥٦ ، ٣٨٨، ٣٩٥١، ٤٤١٨، ٤٦٧٣ ٤٦٧٦، ٤٦٧٨، ٦٢٥٥ ، ٦٦٩٠، ٧٢٢٥ تشريح : وَعَلَى الثَّلْثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا ۔۔۔ : منافقین پر قسمیں کھانے کی وجہ سے کوئی تعزیر عائد نہیں کی گئی اور وہ دنیا کی سزا سے بچ گئے لیکن جنہوں نے راست گوئی سے کام لے کر اپنے قصور کا اقرار کیا اُن پر تعزیر عائد کی گئی اور جب اُنہوں نے صبر و استقلال اور بردباری اور ثابت قدمی سے اپنے