صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 387
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۷ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة سَافَرَهُ إِلَّا ضُحَى وَكَانَ يَبْدَأُ صبح چاشت کے وقت رسول صلی ا ہم سے سچ سچ بیان بِالْمَسْجِدِ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَنَهَى کردوں اور کم ہی ہو تا کہ کسی سفر سے جو آپ نے النَّبِيُّ الله عَنْ كَلَامِي وَكَلَام کیا ہوتا چاشت کے وقت نہ آتے ہوں اور آپ صَاحِبَيَّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كَلَامِ أَحَدٍ مِنَ پہلے مسجد میں آتے اور آپ وہاں دو رکعتیں پڑھتے الْمُتَخَلَّفِينَ غَيْرِنَا فَاجْتَنَبَ النَّاسُ اور نبی صلی اللہ کریم نے میرے اور میرے دونوں كَلَامَنَا فَلَبِثْتُ كَذَلِكَ حَتَّى طَالَ ساتھیوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے روک عَلَيَّ الْأَمْرُ وَمَا مِنْ شَيْءٍ أَهَمُ إِلَيَّ دیا اور ہمارے سوا جو اور پیچھے رہنے والے تھے مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ النَّبِيُّ ان میں سے کسی کے ساتھ بھی بات کرنے سے أَوْ يَمُوتَ رَسُولُ الله الله آپ نے نہیں روکا۔اس لئے لوگ ہمارے ساتھ فَأَكُونَ مِنَ النَّاسِ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ فَلَا بات کرنے سے بچتے رہے۔میں اسی حالت میں رہا، یہاں تک کہ یہ معاملہ اتنا لمبا ہو گیا کہ زندگی مجھ پر دو بھر ہونے لگی اور کوئی بات بھی مجھے اس سے بڑھ کر فکر میں ڈالنے والی نہ تھی کہ میں۔يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ مِنْهُمْ وَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ فَأَنْزَلَ اللهُ تَوْبَتَنَا عَلَى نَبِيِّهِ عالم حِينَ بَقِيَ الثُّلُثُ الْآخِرُ مِنَ اللَّيْل مر جاؤں اور نبی صلی علی تم میرے لئے دعائے رحمت وَرَسُولُ اللهِ ع عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ ل نہ کریں یارسول اللہ صلی للی یکم فوت ہو جائیں اور میں وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ مُحْسِنَةً فِي شَأْنِي لوگوں میں اسی پست حالت میں رہوں کہ اُن میں مَعْنِيَّةً فِي أَمْرِي فَقَالَ رَسُولُ اللهِ سے کوئی بھی میرے ساتھ بات نہ کرے اور نہ يَا أُمَّ سَلَمَةَ تِيبَ عَلَى كَعْبٍ ہی میرے لئے دعائے رحمت کرے کہ آخر اللہ قَالَتْ أَفَلَا أُرْسِلُ إِلَيْهِ فَأُبَشِّرُهُ قَالَ نے اپنے رسول پر ہماری توبہ سے متعلق اس وقت إِذًا يَحْطِمَكُمُ النَّاسُ فَيَمْنَعُونَكُمُ وحی نازل کی جبکہ رات کی آخری تہائی رہتی تھی النَّوْمَ سَائِرَ اللَّيْلَةِ حَتَّى إِذَا صَلَّى اور رسول اللہ صلی اليوم حضرت ام سلمہ کے پاس رَسُولُ اللهِ صَلَاةَ الْفَجْرِ آذَنَ تھے اور حضرت ام سلمہ میرے معاملہ میں اچھا بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَكَانَ إِذَا اسْتَبْشَرَ رویہ رکھتی تھیں اور میرے متعلق فکر مند تھیں۔اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةٌ مِنَ رسول الله صلى الیم نے فرمایا: ام سلمہ ! کعب کی تو بہ