صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 18 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 18

صحيح البخاری جلد ۱۰ IA ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة مراد شک، اور عکرمہ سے ریا کاری کے معنی مروی ہیں۔قتادہ نے نفاق مرادلی ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) نكالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَها حصہ ہے اس آیت کا وَ لَقَدْ عَلِمُتُهُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَسِبِيْنَ ، فَجَعَلْنَهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ (البقرة: ۶۶، ۶۷) اور ان لوگوں (کے انجام) کا تمہیں یقینا علم ہو چکا ہے جو تم میں سے سبت کے بارے میں حدود سے بڑھ گئے تھے ، تو ہم نے انہیں کہا: ذلیل بندر ہو جاؤ اور ہم نے اس ( واقعہ) کو عبرت بنایا، ان کے لئے بھی جو اُس وقت موجود تھے اور اُن کے لئے بھی جو بعد میں آنے والے ہیں، اور متقیوں کے لئے موجب نصیحت ہے۔فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً میں كُونُوا سے مراد طبعی نتیجے کا ظہور اور تقدیر الہی کا صدور ہوتا ہے۔یہ اسلوب قرآن مجید میں بلا استثناء اسی قسم کے سیاق کلام میں اختیار کیا گیا ہے۔جب یہود نے احکام الہی کی اصل غرض و غایت نظر انداز کی اور صرف ظاہر پر نظر رکھی تو اُن کی حالت نقال بندر کی سی تھی۔ظاہری قربانی پر زور دیا اور نفس کی قربانی کا خیال نہ رکھا۔روزہ رکھا، مگر روزہ سے جو مقصود تھا کہ محرمات سے اجتناب کیا جائے ، وہ نہیں کیا اور افعالِ شنیعہ کے مرتکب ہوئے۔جس پر تقدیر الہی پاداش کی صورت میں جاری ہوئی کہ وہ حاکم ہونے کے بعد دوسری قوموں کے محکوم ہوئے اور آخر ذلیل ہو گئے کہ دوسروں کا جوا اُن کی گردنوں میں ڈالا گیا اور انہوں نے ان کی عادات و رسوم کی نقالی شروع کر دی جو بندروں کا خاصہ ہے۔انہی معنوں میں قردا وارد ہوا ہے جس سے مراد انسان ہیں اور اسی لئے قردةً کا وصف بجائے صیغہ مونث کے صیغہ جمع مذکر سالم حسنین وارد ہوا ہے۔اگر بندر مراد ہوتے تو اس کا وصف قاعدہ کی رو سے تخلیقات ہونا چاہیے تھا۔اس آیت سے ماقبل جس آیت کا حوالہ بقوة سے دیا گیا ہے اس میں قلنا حذف ہے اور قرآن مجید میں یہ اسلوب بلا استثناء ایسے سیاق کلام میں اختیار کیا گیا ہے جہاں الہی غضب کی تجلی غیر معمولی ہو۔ایسی حالت میں شدت خوف کی وجہ سے انسان بغیر حکم دئے خود بخود اطاعت اختیار کرتا ہے۔ہیبت ناک طوری تجلی دیکھ کر بنی اسرائیل سربسجو د ہو گئے۔انبیاء علیہم السلام کے زمانہ میں جب ایسی گرفت سخت ہوتی ہے تو انسان کی گردن خود بخود جھکتی ہے۔اسی حالت کے پیش نظر قُلْنَا کا لفظ حذف ہے۔فرماتا ہے : وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُم وَرَفَعْنَا فَوقَكُمُ الطُّورَ (قُلْنَا) خُذُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بقوة (البقرة: ۶۴) مذکورۃ الصدر دونوں اسلوب قرآن مجید میں جابجا ہیں۔بعض وقت محض دل کے خیال کو بھی لفظ قال سے تعبیر کیا گیا ہے۔جیسے سورہ یوسف میں ہے کہ بھائیوں کے اس اظہار پر کہ بنیامین کے بھائی نے بھی چوری کی تھی، فرماتا ہے: قَالَ أَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ (یوسف: ۳۸) کہا تم بڑے بدبخت ہو ، اور جو بات تم کہتے ہو اللہ اسے بہتر جانتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ الفاظ اپنے بھائیوں سے نہیں فرمائے تھے کیونکہ اس سے پہلے آتا ہے: فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمُ (يوسف:۳۸) یوسف نے ان کی بات ( کہ اس نے اگر چوری کی ہے تو اس کے ایک بھائی نے بھی اس سے پہلے چوری کی تھی) اپنے دل میں پوشیدہ رکھی اور اسے اُن پر ظاہر نہ کیا۔ظاہر ہے کہ اس سیاق کلام میں قالی کا