صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 386
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۶ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة تشريح : لَقَدْ تَابَ اللهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُعْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ۔۔۔۔ روایت زیر باب احمد بن صالح سے بسند ابن وہب اور عنبسہ مذکور ہے ان دونوں نے بسند یونس اسے روایت کیا ہے۔ غرض مختلف سندوں سے یہ روایت نہایت ثقہ ثابت شدہ ہے۔ باب ۱۸ وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحْبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَا مِنَ اللهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ( التوبة : ۱۱۸) اور اُن تین شخصوں پر بھی جن کا فیصلہ ملتوی ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخ ہونے کے اُن کے لئے تنگ ہو گئی، یہاں تک کہ اُن کی اپنی جانیں بھی اُن پر دو بھر ہو گئیں اور اُنہوں نے یقین کر لیا کہ کوئی جائے پناہ نہیں مگر اللہ کے پاس۔ اس کے بعد اللہ نے ان پر رحم کیا کہ وہ اپنی غلطی سے رجوع کریں۔ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور سچی کوشش کا بدلہ رحمت سے دینے والا ہے۔ ٤٦٧٧ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۶۷۷: محمد (بن نفر نیشاپوری) نے مجھ سے أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بیان کیا کہ احمد بن ابی شعیب نے ہمیں بتایا کہ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاشِدِ موسیٰ بن اعین نے ہم سے بیان کیا۔ اسحاق بن أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي راشد نے ہمیں بتایا کہ زہری نے اُن سے بیان عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ کیا، کہا: عبد الرحمن بن عبد اللہ بن کعب بن مالک بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي نے مجھے بتایا کہ اُنہوں نے اپنے باپ سے روایت كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلَاثَةِ کی۔ انہوں نے کہا: میں نے اپنے باپ (حضرت الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ أَنَّهُ لَمْ يَتَخَلَّفْ كعب بن مالک سے سنا اور وہ اُن تین شخصوں عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی تھی۔ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَطُّ غَيْرَ غَزْوَتَيْنِ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی غزوہ میں بھی غَزْوَةِ الْعُسْرَةِ وَغَزْوَةِ بَدْرٍ قَالَ جس میں آپ نکلے کبھی پیچھے نہ رہے سوائے دو الله فَأَجْمَعْتُ صِدْقَ رَسُولَ اللهِ لا غزوات کے ایک غزوہ عسرہ اور ایک غزوہ بدر۔ ضُحًى وَكَانَ قَلَّمَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ اُنہوں نے کہا: میں نے یہ پختہ عزم کر لیا کہ میں