صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 384
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۴ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا۔ معمر نے ہمیں الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا طَالِبٍ بن مسیب سے، سعید نے اپنے باپ (حضرت الْوَفَاةُ دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ الله وَعِنْدَهُ مسيب بن حزن) سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: أَبُو جَهْلِ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا تو اُن کے الله ابو جہل اور فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاس نبی صلی الم گئے۔ ملی علیوم گئے۔ اس وقت وہاں ابوم أَيْ عَمِّ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ أَحَاجٌ عبد الله بن ابی امیہ تھے۔ نبی صلی علیرام نے فرمایا: چچا! لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ آپ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کریں تا اس بنا پر وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ میں آپ کے لئے اللہ کے پاس چارہ جوئی کروں۔ أَتَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا: ابو طالب ! النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَسْتَغْفِرَنَّ آیا عبد المطلب کے در کے دین سے آپ پھر جائیں گے ؟ لَكَ مَا لَمْ أَنْهَ عَنْكَ فَنَزَلَتْ مَا في صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں آپ کے لئے كَانَ لِلنَّبِي وَ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے لِلْمُشْرِكِينَ وَ لَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ روک نہ دیا جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : نبی کو بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ أَنَّهُمْ أَصْحُبُ اور وہ لوگ جو مومن ہیں انہیں نہیں چاہیے تھا الْجَحِيمِ (التوبة : ١١٣)۔ أطرافه: ١٣٦٠، ٣٨٨٤، ٤٧٧٢، ٦٦٨١۔ کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے گو وہ قریبی رشتہ دار ہی ہوں جبکہ اُن پر پورے طور پر واضح ہو چکا کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ تشريح : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ ۔۔۔ : اس آیت آیت کی تشریح زیر باب ۱۲، ۱۳ گذر چکی ہے اور روایت زیر باب کتاب الجنائز روایت نمبر ۱۳۶۰ میں بھی گذر چکی ہے۔ سورۃ القصص کی تفسیر میں بھی اس سے متعلق ذکر آئے گا۔ آیت مذکورہ بالا میں استغفار کی ممانعت روط ہے۔ یعنی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ (التوبة: ۱۱۳) جب واضح طور اضح طور پر معلوم ہو جائے مشروط کہ وہ جہنم کے لائق ہیں تو پھر استغفار جائز نہیں۔ اور یہ بہت کڑی شرط ہے۔