صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 383 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 383

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۳ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة مَنْزِلُكَ قَالَا أَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا میں داخل ہو گئے۔ پھر ہمارے پاس واپس آگئے شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنٌ وَشَطْرٌ مِنْهُمْ اور اُن کی وہ بدصورتی اُن سے جاتی رہی اور وہ قَبِيحٌ فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ نہایت ہی خوبصورت ہو گئے ۔ اُن دونوں نے مجھے سينا ( التوبة : ۱۰۲) تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ کہا: یہ جنت عدن ہے اور وہ آپکا مکان ہے۔ اُن دونوں نے کہا اور یہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا جسم بدصورت تھا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کچھ بھلے کام اور کچھ بڑے کام ملا جلا کر کیے ہیں اور اللہ نے اُن سے درگزر کیا ہے۔ أطرافه : ٨٤٥، ۱١٤٣ ، ۱۳۸۶، ۲۰۸۵ ، ۲۷۹۱، ۳۲۳۶، ٣٣٥٤، 609٦، 7047۔ نُوبِهِمُ ۔۔۔ پوری آیت یہ کی آیت یہ ہے کہ وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ تشريح : وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِم ۔ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَ أَخَرَ سَيْنَا عَسَى اللهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) (التوبة: ۱۰۲) اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔ اُنہوں نے نیک عملوں کو کچھ اور عملوں سے جو بڑے تھے ملاد یا قریب ہے کہ اللہ ان پر فضل کر دے۔ اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیاند ارویا مذکورہ زیر باب تائبین کے نیک انجام پر دلالت کرتی ہے۔ کرتی ہے۔ جیسا کہ مشہور حدیث ہے: التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ، كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ " ( گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو) ان تو بہ کرنے والوں کے اوصاف سورہ توبہ آیت ۱۱۲ میں بیان ہوئے ہیں۔ فرماتا ہے : التائبون الْعَبدُونَ الْحَمِدُونَ السَّابِحُونَ الرَّعُونَ السُّجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحُفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبة: (۱۱۲) وہ تو بہ کرنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، حمد باری تعالی) کرنے والے ہیں، وصال محبوب حقیقی کے لئے سرگرداں متبتل الی اللہ ہیں ( اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے گھومنے والے) اللہ کے سامنے جھکنے والے ، سجدہ ریز، نیک باتوں کا حکم دینے والے اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کے محافظ ہیں۔ ایسے مومنوں کو تو بشارت دے دے۔ بَاب ١٦ : مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) نبی اور اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں نہیں چاہیے تھا کہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کرتے (التوبة: (۱۱۳) ٤٦٧٥ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۴۶۷۵: اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں بتایا۔ ا ( سنن ابن ماجه ، كتاب الزهد، باب ذكر التوبة )