صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 380
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۸۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة آپ کی صداقت اور آپ کی جماعت کی قدر و قیمت محسوس ہونے لگی تو ان میں سے شریف طبقہ لوگوں کے رویے میں تبدیلی ہونے لگی اور اُنہوں نے باوجود جماعت میں نہ داخل ہونے کے احمدیوں کے ساتھ نیک برتاؤر کھا۔اندریں تبدیل شدہ حالات میں موجودہ امام جماعت ( حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ) نے اپنے فتویٰ میں نرمی اختیار کی ہے اور اجازت دی ہے کہ ایسے لوگوں کا جنازہ اپنے امام کے پیچھے پڑھا جا سکتا ہے۔غرض امام وقت کو استثنائی حالات عام قانون کی موجودگی میں ملحوظ رکھنے کا اختیار ہے۔ایسے استثنائی حالات میں فیصلہ کرنا امام وقت کا اختیار ہے نہ کسی اور کا۔باب ١٤ 1 سَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَاعْرِضُوا عَنْهُمْ اِنَّهُمْ رِجْسٌ وَ مَا وَلَهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (التوبة: ٩٥) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) جب تم اُن کی طرف لوٹو گے تو وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے تا تم اُن سے در گزر کرو۔سو اُن سے درگزر ہی کرو کیونکہ وہ ناپاک ہیں اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے، جو اُن کے کیسے کا بدلہ ہے۔تَخَلَّفَ عَنْ ٤٦٧٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ٤٦٧٣: يحي ( بن عبد اللہ بن بکیر ) نے ہم سے اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عنِ ابْنِ شِهَابٍ بیان کیا کہ لیث بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَن بْن عَبْدِ اللهِ أَنَّ نے عقیل سے ، عقیل نے ابن شہاب سے، ابن عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ سَمِعْتُ شہاب نے عبد الرحمن بن عبد اللہ سے روایت کی کہ عبد اللہ بن کعب بن مالک) کہتے تھے کہ میں نے حضرت کعب بن مالک سے جبکہ وہ جنگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ، سنا: اللہ کی قسم ! اللہ نے مجھے ہدایت دینے کے بعد کوئی نعمت اس سے بڑھ کر مجھ پر نہیں کی کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سچ وَسَلَّمَ أَنْ لَّا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ سچ بیان کر دیا۔آپ سے جھوٹ نہیں بولا۔ورنہ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح کہ وہ أُنْزِلَ الْوَحْيُ سَيَحْلِفُونَ بِاللهِ لَكُمْ ہلاک ہوئے جنہوں نے جھوٹ بولا کیونکہ یہ وحی كَعْبَ بْنَ مَالِكِ حِينَ تَبُوكَ وَاللهِ مَا أَنْعَمَ اللهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي أَعْظَمَ مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ