صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 379
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة وَلَا تُصَلّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُم مَّاتَ اَبَدا وَلَا تَقُم على قبره۔۔۔: یہ باب بھی سابقہ باب کے ہی تسلسل میں ہے۔معنونہ آیت کو الگ نمایاں کر کے بتایا ہے کہ صریح ممانعت کے باوجود، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعید تھا کہ دلجوئی کی خاطر نعوذ باللہ اس کی خلاف ورزی کرتے۔اس آیت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن ابی کو اس زمرہ میں شمار نہیں سمجھا، جن کی موت کفر و فسق کی حالت میں واقع ہوئی ہو۔چنانچہ پوری آیت یہ ہے: وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ ابَدًا وَ لَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَمَا تُوا وَهُمْ فَسِقُونَ (التوبۃ: ۸۴) اور اگر ان میں سے کوئی مرجائے تو اس پر نماز جنازہ نہ پڑھ اور نہ اس کی قبر پر ( دعا کے لئے ) کھڑا ہو۔کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور وہ ایسی حالت میں مرے ہیں کہ وہ فاسق (نافرمان، بد کردار ) تھے۔سابقہ باب کی آخری روایت اور اس باب کی روایت میں بھی ہے کہ وَلَا تُصَلَّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَّاتَ اَبَدا مَا حکم عبد اللہ بن اُبی کی وفات والے واقعہ کے بعد نازل ہو ا تھا۔اس سے بعض شارحین کی یہ رائے ہے کہ گویا اس حکم کی عدم موجودگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی نماز جنازہ پڑھنا قابل اعتراض نہیں۔اُن کی یہ رائے وقیع نہیں، کیونکہ سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۳، ۱۱۴ سے جس کا ابھی حوالہ دیا جا چکا ہے آپ بے خبر نہ تھے۔یہ حکم پہلے نازل ہو چکا تھا۔اس لئے حکم لا تصل نہ بھی نازل ہو تا تو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے بالکل بعید تھا کہ سابقہ حکم کو ملحوظ نہ رکھتے۔لہذ اشعار حسین کا مذکورہ بالا عذر قابل التفات نہیں اور اصل بات وہی ہے جو حضرت عمر نے فرمائی اور نادم ہوئے کہ آپ اعلم الناس تھے ، صاحب بصیرت تھے۔آپ نے عبد اللہ بن ابی کا نماز جنازہ پڑھا اور اپنے اس فعل میں آپ نے اس کے ظاہری اقرار اسلام اور اس کے اندر نیک تبدیلی کو ملحوظ رکھا۔علاوہ ازیں حالات کا موازنہ کرتے ہوئے آپ نے اپنے مفوضہ اختیار کو بر محل اختیار کیا۔ایک وقت تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے معتقدین پر تکفیر وزندقہ وغیرہ کے بدترین فتاوی مولوی صاحبان کی طرف سے عائد کئے گئے۔یہاں تک کہ انہیں اپنے پیچھے نماز نہ پڑھنے دی جاتی اور حالت یہ تھی کہ اگر کوئی احمدی اُن کی مسجد میں نماز پڑھتا تو وہ پیٹا اور مسجد سے نکال دیا جاتا کہ اس کے نماز پڑھنے سے اُن کی مسجد نجس ہو جاتی ہے۔خیر الدین کی مشہور مسجد جو شہر امرتسر کے ہال بازار میں واقع ہے حضرت میر قاسم علی صاحب جو جماعت احمدیہ کے مشہور مبلغ اور معزز ترین افراد میں سے تھے انہیں اسی مسجد میں گالیاں دی گئیں اور یہاں تک ذلیل و رسوا کیا گیا کہ جب تک اُن سے زمین پر لکیریں کھنچوا کر اُن کا ناک خاک آلود نہ کر لیا گیا وہ چھوڑے نہیں گئے اور اُن سے اقرار لیا کہ آئندہ وہ کسی مولوی کی مسجد میں داخل نہیں ہوں گے۔ان شرمگیں اور تکلیف دہ حالات میں امام وقت نے فتویٰ صادر فرمایا کہ ایسے ائمہ کفر و تکفیر کے پیچھے جو حدیث شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ (آسان کے تحت بدترین مخلوق) کے مصداق ہیں نماز نہ پڑھی جائے۔لیکن جوں جوں زمانہ گزرتا چلا گیا اور مسلمان احباب کو (شعب الإيمان الثامن عشر : باب في نشر العلم ، جزء ۳ صفحه ۳۱۸) ( مشكاة المصابيح، كتاب العلم ، الفصل الثالث، روایت نمبر ۲۷۶)