صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 378
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۷۸ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة أَنَّهُ قَالَ لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت جَاءَ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ إِلَى کی۔ اُنہوں نے کہا: جب عبد اللہ بن ابی مر گیا تو رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کا بیٹا عبد اللہ بن عبد اللہ رسول اللہ صلی العلیم کے فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّتَهُ فِيهِ پاس آیا ۔ آپ نے اس کو اپنی قمیص عطا کی اور ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَأَخَذَ عُمَرُ بْنُ اس سے فرمایا کہ اس کو اس میں کفنا دے۔ پھر الْخَطَّابِ بِثَوْبِهِ فَقَالَ تُصَلِّي عَلَيْهِ آپؐ اس کا جنازہ پڑھنے کو کھڑے ہوئے تو وَهُوَ مُنَافِقٌ وَقَدْ نَهَاكَ اللهُ أَنْ حضرت عمر بن خطاب نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور تَسْتَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ أَوْ کہا: آپ اس پر نماز جنازہ پڑھتے ہیں حالانکہ وہ أَخْبَرَنِي اللهُ فَقَالَ اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْلا منافق تھا اور اللہ نے بھی آپ کو اُن منافقوں تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے روکا ہے۔ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ آپؐ نے فرمایا: مجھے تو صرف اللہ نے اختیار دیا (التوبة: ۸۰) فَقَالَ سَأَزِيدُهُ عَلَى ہے یا فرمایا : خبر دی ہے اور فرمایا ہے کہ تو ان کے سَبْعِينَ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا مَعَهُ لئے استغفار کرے یا نہ کرے اگر تو ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کرے تو بھی اللہ ان کو بخشنے کا نہیں۔ آپ نے فرمایا: میں ستر سے بھی زیادہ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے : مِنْهُم مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقْمُ عَلَى قَبْرِهِ چنانچہ رسول اللہ صلی علیم نے اس کی نماز جنازہ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ پڑھی۔ پھر فُسِقُونَ ( التوبة : ٨٤ ) ۔ اس کے بعد اللہ نے آپ پر یہ وحی نازل کی۔ أطرافه: ١٢٦٩، ٤٦٧٠، ٥٧٩٦۔ اور ان میں سے اگر کوئی مر جائے تو اس پر نماز (جنازہ) نہ پڑھا کر اور نہ اس کی قبر پر ( دعا کے لئے کھڑا ہوا کر کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور ایسی حالت میں مرے ہیں جبکہ وہ اطاعت سے خارج ہو رہے تھے۔