صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 377 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 377

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۷۷ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة یعنی امام بخاری کا عنوان باب میں اختصار سے اس آیت کو اس قدر بیان کرنے میں شاید یہی سر ہو لیکن انہوں نے اس کی مختلف توجیہہ کی ہے۔البتہ اس تعلق میں بعض علماء کا یہ قول نقل کیا ہے کہ شرک کی حالت میں فوت ہونے والے کی صورت اس شخص سے بالکل مختلف ہے جو اسلام کا اظہار کرتے ہوئے فوت ہوا ہو۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۳۰) اُن کے نزدیک عبد اللہ بن ابی ظاہر میں کلمہ توحید کا مقر رہا ہے اور اپنی آخری بیماری میں اسے یہ خواہش ہوئی کہ وہ آنحضرت علی ای کم کی قمیص میں دفنایا جائے اور آپ کا اس کے بیٹے کو اپنی قمیص دینا اور اسے اس میں دفنانا اور نماز جنازہ پڑھنا بتاتا ہے کہ نبی اکرم علی ایم کی بصیرت افروز نظر اور نور فراست اس کی قلبی تبدیلی کو محسوس کرتی تھی۔غرض قرآن مجید کا مذکورہ بالا حکم عام قانون شریعت سے متعلق ہے اور عبد اللہ بن ابی کے ساتھ آپ کا سلوک استثنائی حالات سے متعلق ہے۔دونوں میں قطعا تضاد نہیں جیسا کہ سمجھا گیا ہے۔بعض شارحین کی یہ رائے ہے کہ اس کے مخلص بیٹے اور اس کی قوم کی دلجوئی و تالیف قلب آپ کے مد نظر تھی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عبد اللہ بن اُبی کی قوم کے اکثر افراد نے اسلام قبول کیا۔یہ محض ایک ضمنی بات ہے۔آنحضرت میا علیم کی طرف اس غرض کو منسوب کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ارشاد باری تعالیٰ مصلحتا خاطر جوئی کی وجہ سے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جو قطعاً درست نہیں اور نہ شارحین کا یہ استدلال جواز کے لئے صحیح ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے مشرک باپ کے لئے استغفار کیا تھا جس کی وجہ سے قرآن مجید میں انہیں بصراحت کہا گیا ہے: اِنَّ ابْراهِيمَ لَأَوَاهُ حَلِيمٌ (التوبة: ۱۱۴) که ابراہیم درد مند دل رکھنے والے اور بردبار تھے۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھی نماز جنازہ جو پڑھی شفقت ورحم ولی کی وجہ سے تھی۔یہ قیاس مع الفارق ہے۔کیونکہ اس بارہ میں یہ کہیں ثابت نہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مشرک باپ کے لئے دعائے مغفرت ورحمت سے روکا گیا تھا اور پھر باوجود اس ممانعت کے اُن کی طرف سے بوجہ رقیق القلب ہونے کے خلاف ورزی حکم ہوئی۔غرض آنحضرت میای لیلی کیم کے فعل کو ان کی مثال پر قیاس کرنا درست نہیں۔بے شک آپ غایت درجہ حلیم ورحم دل و شفیق تھے لیکن اس حکم کی خلاف ورزی کا جو از مستنبط نہیں ہو سکتا۔بلکہ امر واقعہ یہی ہے کہ آپ نے عبد اللہ بن ابی کو محولہ بالا آیت کے منطوق سے اس کے حالات کی بناء پر مستنی سمجھا ہے اور حضرت عمرؓ کو مسکراتے ہوئے جو جواب دیا ہے اس میں آپ نے اپنے استثنائی اختیار کی صراحت فرمائی ہے۔بَاب :۱۳ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُم مَّاتَ اَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور تو اُن میں سے کسی مرنے والے پر کبھی (جنازہ کی نماز نہ پڑھ اور کبھی اُس کی قبر پر ( دعا کے لئے) کھڑا نہ ہو (التوبة: ٨٤) ٤٦٧٢ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ :۴۶۷۲ ابراہیم بن منذر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبید اللہ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ( بن عمر بن حفص) سے ، انہوں نے نافع سے ، نافع