صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 17 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 17

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۷ ۶۵ - کتاب التفسير / البقرة اختیار کرنے کی تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (البقرة: ۱۳۳) نقل کئے ہیں کہ ا ہیں کہ انہوں نے اپنی اولاد اولاد کو یہی دین اختر کو ۔ وصیت کی اور ان کی اولاد نے حضرت یعقوب علیہ السلام سے اقرار کیا۔ نَعْبُدُ الهَكَ وَإِلَهَ أَبَابِكَ إِبْرَهِمَ وَاسْتَعِيلَ وَ اسْحَقَ الهَا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) (البقرۃ: ۱۳۴) کہ ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادوں ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی جو ایک ہی معبود ہے عبادت کریں گے اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ یہاں بطور تمہید اس آیت کا انتخاب بھی بر محل ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کا ایک ہی دین رہا ہے جو توحید کامل ہے۔ اسی توحید کا نام دوسرے الفاظ میں دِین، صِبْغَةَ الله اور اسلام ہے۔ امام بخاری نے اپنے مخصوص انداز بیان سے ایک ایک لفظ میں وسیع معانی سمیٹے ہیں۔ عَلَى الْخَشِعِينَ سے اشارہ ہے آیت وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَجِعُونَ ) (البقرة: ۴۷۴۶) کی طرف یعنی اور صبر اور دعا کے ذریعہ سے (اللہ سے مدد مانگو اور بیشک فروتنی اختیار کرنے والوں کے سوا ( دوسروں کے لئے ) یہ (امر ) مشکل ہے۔ (وہ فروتن) جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور اس بات پر بھی کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ خَاشِعِینَ کے معنی ابو العالیہ نے خَائِفِينَ کئے ہیں۔ خوف اور خشوع میں فرق ہے۔ خشوع میں الہی عظمت اور کبریائی کا اور اپنی کم مائیگی کا اور بے بسی کا احساس ہوتا ہے۔ مجاہد نے خاشِعِین سے مراد مومنین لئے ہیں۔ اول الذکر تفسیر ابن ابی حاتم نے اور مجاہد کی تفسیر شبابہ کی سند سے عبد بن حمید نے نقل کی ہے۔ مقاتل بن حیان ے خَاشِعِينَ کے معنی مُتَوَاضِعِيْنَ بھی مروی ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) جسے مد نظر رکھ کر ترجمہ فروتنی اختیار کرنے والے“ کیا گیا ہے۔ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَقًّا سے یہ مراد ہے کہ جو بات دوسروں کے لیے مشکل ہے ، مومن اسے اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ ا بِقُوَّةٍ سے آیت وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ الطور خُذُوا مَا آتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ تتقون ( البقرة : ۶۴) (۶۴) کی طرف اشارہ ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تم پر طور کو بلند کیا۔ (ہم نے کہا: ) جو (حکم) ہم نے تمہیں دیئے ہیں انہیں مضبوطی سے لو اور جو ( مقصد ) ان میں ہے اسے مد نظر رکھو، تا تم متقی بنو۔ مذکورہ بالا سند سے قوة کا مفہوم اطاعت مروی ہے اور قتادہ اور سدی سے قوت کے معنی جدوجہد مروی ہیں، یعنی احکام پر جہاں تک ہو سکے پوری کوشش سے عمل کیا جائے۔ ( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۳) آيت فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا (البقرة: 11) میں ابو العالیہ اور حضرت ابن عباس سے مرض سے ا ترجمه از تفسیر صغیر: ”اور ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور (اسی طرح) یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو) اس اس بات کی تاکید کی (اور کہا کہ ) اے میرے بیٹو! اللہ نے یقیناً اس دین کو تمہارے لیے چن لیا ہے۔ پس ہر گز نہ مرنا، مگر اس حالت میں کہ تم اللہ کے ) پورے فرماں بردار ہو۔“ (تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم ، سورة البقرة آيت : إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ ، جزء اول صفحه (۱۰۳) ८८