صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 376 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 376

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة تھی اور قرآن مجید میں مشرکین کے بارہ میں بایں الفاظ صراحت ہے کہ مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِى قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ أَنَّهُمْ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لا بِيْهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرًا مِنْهُ إِنَّ ابْرَاهِيمَ لَأَوَاهُ حَلِيمٌ ) (التوبة: ۱۱۳، ۱۱۴) نبی اور مومنوں کے لئے شایاں نہیں کہ مشرکوں کے لئے استغفار کریں خواہ وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہو گیا کہ وہ دوزخ کے مستحق ہیں۔ اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے استغفار صرف اس وجہ سے تھا کہ اس نے اس سے وعدہ کیا تھا مگر جب اس پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس وعدے سے پوری طرح دستبردار ہو گیا۔ ابراہیم یقینا بہت ہی نرم دل بردبار اور عقلمند تھا۔ اپنے خیر خواہ مدد گار اور مربی چچا کے مقابل ایسے منافق کا نماز جنازہ پڑھنا جس کی نسبت احادیث و تاریخ سے ثابت ہے کہ وہ در پردہ آپؐ کے خلاف ریشہ دوانی میں مشغول رہا۔ آپ کے یہ دونوں عمل بظاہر متضاد ہیں۔ ایک عمل سے تو ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے جذبات نفس پر اللہ تعالیٰ کے صحیح ارشاد کی پابندی کو ترجیح دی اور دوسرے عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایک صریح تاکیدی حکم کی پابندی میں نعوذ باللہ تساہل سے کام لیا ہے۔ شارحین نے اس کی کئی ایک وجوہات بیان کی ہیں جو تکلف سے خالی نہیں اور نہ یہاں اُن کے اعادہ کی ضرورت ہے۔ ، امام بخاری نے محولہ بالا آیت سے عنوان باب قائم کرنے میں حسب عادت ایک تصرف کر کے مذکورہ بالا اعتراض کا لطیف جواب دیا ہے۔ آیت کو فکن کو فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ " پر ختم کیا ہے۔ جس سے ) اسے اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ مذکورہ بالا ممانعت جنازہ و استغفار کا تعلق سیاق کلام میں مذکورۃ الصفات گروہ سے ہے۔ جس میں ایسے کفار و منافقین شامل ہیں جن کی نسبت انا ت ان الفاظ میں صراحت ہے : ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (التوبة: (۸۰) یہ اس لئے کہ اُنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے اور اللہ فاسق قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ اس آیت کے سیاق و سباق میں اس گروہ کی اور بھی صفات بیان ہوئی ہیں۔ امام بخاری کے نزدیک اس مخصوص گروہ کے لئے بطور عام قانون کے مذکورہ بالا ارشاد ہے اور یہ معلوم ہی ہے کہ ہر ایسے عام قانون میں استثنائی صورتیں بھی ہوتی ہیں۔ جن سے متعلق انبیاء اور ائمہ وقت کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ استثنائی حالات کے بارہ میں خاص فیصلہ کریں۔ اسی قاعدہ کے تحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمررؓ کو بوقت نماز جنازہ مختصر جواب دیا جس پر وہ نہ صرف خاموش ہو گئے اور نماز جنازہ میں شریک ہوئے بلکہ جیسا کہ باب ۱۲ کی آخری روایت سے ظاہر ہے اُنہیں بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جرات کرنے پر تعجب ہوا اور ان الفاظ میں اللهُ اعْلَمُ وَ رَسُولہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و معرفت کا اقرار کرنا پڑا۔ امام ابن حجر کو بھی امام بخاری کا مذکورہ بالا تصرف کھٹکا ہے اور لکھا ہے: وَلَعَلَّ هَذَا هُوَ السِّرُّ فِي اقْتِصَارِ الْبُخَارِيِّ فِي التَّرْجَمَةِ مِنْ هَذِهِ الْآيَةِ عَلَى هَذَا الْقَدْرِ إِلَى قَوْلِهِ فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ ( فتح الباری جزء ۸ صفحه ۴۳۰) ا ترجمه حضرت خلیفہ المسیح الرابع : تب بھی اللہ ہر گز انہیں معاف نہیں کرے گا۔“