صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 375 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 375

صحیح البخاری جلد ۱۰ ۳۷۵ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللهُ وَرَسُولُهُ مر جائے تو اس پر نماز (جنازہ) نہ پڑھا کر اور نہ أَعْلَمُ۔طرفه: ١٣٦٦ - اس کی قبر پر (دعا کے لئے) کھڑا ہوا کر کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور ایسی حالت میں مرے ہیں جبکہ وہ اطاعت سے خارج ہو رہے تھے۔کہتے تھے: مجھے بعد میں اپنی جرات پر تعجب ہوا جو میں نے رسول صلی اللہ تم پر کی۔حالانکہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔اسْتَغْفِرُ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمُ۔۔۔: مذکورہ بالا آیت سورۂ توبہ کی آیت نمبر ۸۰ ہے۔جو فقہاء کا موضوع بحث بن گئی ہے اور شار حسین بخاری کے لئے بڑی ذہنی کاوش کا باعث رہی ہے۔جہاں تک نماز جنازہ کے بارہ میں استنباط مسائل کا تعلق ہے وہ کتاب الجنائز میں دیکھے جائیں۔یہاں تفسیر آیت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد اللہ بن ابی سردار بنی خزرج کا جنازہ پڑھنے کا سوال مقصودِ بحث ہے۔مفسرین اور شارحین نے اس ضمن میں تعجب کا اظہار کیا ہے کہ باوجود تصریح باری تعالیٰ فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ (التوبة: ۸۰) کی موجودگی میں آپ نے عبد اللہ بن اُبی جو رئیس المنافقین کے نام سے مشہور تھا اس کی نماز جنازہ کیوں پڑھی۔بحالیکہ حضرت عمرؓ نے بھی بوقت جنازہ آپ کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف توجہ دلائی۔صاحب تفسیر کشاف نے بھی لکھا ہے کہ آیت إِن تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً (التوبة: ۸۰) میں ستر بار بھی استغفار کرنے کا اسلوب بیان مبالغہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ نہیں رہ سکتا تھا باوجود اس صراحت کے آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور اس کے لئے دعائے مغفرت کی جو اُن کے نزدیک بہت بڑے تعجب کی بات ہے۔خصوصاً اس لئے کہ آیت کے سیاق و سباق میں منافقین بھی زمرہ کفار میں شمار کئے گئے ہیں اور آنحضرت علی ایم کے چا ابو طالب جو شدید ترین مخالفت کے ہوتے ہوئے مرتے دم تک آپ کی مدافعت و مدد کرتے رہے۔کے چونکہ وہ بحالت شرک فوت ہوئے تھے اور بظاہر حکم لا اللہ کا اقرار نہیں تھا بلکہ اپنے قومی دین پر ہی فوت ہونے کو ترجیح دی ( الكشاف للزمخشري تفسير سورة التوبة، آيت اسْتَغْفِرُ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرُ لَهُم ، جزء ۲ صفحه ۲۹۵) بعض لوگ جو کہ غیر مذاہب میں برائے نام ہوتے ہیں مگر خلوص دل سے وہ اسلام کے مداح ہوتے ہیں ان کے ذکر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”ابو طالب کی بھی ایسی ہی حالت تھی خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ ایک خبیث اور شریر کو ایک ادب اور لحاظ کرنے والے کے برابر کر دیوے اگر اس نے بظاہر تو مذہب قبول نہیں کیا مگر بزرگ سالی کی رعونت اس میں نہ تھی۔احادیث میں بھی اس قدر تحقیقات کہیں نہیں ہوئی ہے ممکن ہے کہ اس نے کبھی کلمہ پڑھ دیا ہو بجز اعتقاد کے محبت نہیں ہوا کرتی اول عظمت دل میں بیٹھتی ہے پھر محبت ہوتی ہے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۲۰۰)