صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 374 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 374

صحیح البخاری جلد ۱۰ ولد ۶۵ - كتاب التفسير / براءة حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ، َو قَالَ (بن سعد ) نے ہمیں بتایا کہ عقیل سے مروی غَيْرُهُ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ہے اور بچی کے سوا دوسرے شخص نے یوں کہا: عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ لیث نے مجھ سے بیان کیا کہ عقیل نے مجھے بتایا کہ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابن شہاب سے روایت ہے۔ اُنہوں نے کہا: عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عبيد الله بن عبد اللہ نے مجھے بتایا۔ اُنہوں نے أَنَّهُ قَالَ لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَي حضرت ابن عباس سے ، حضرت ابن عباس نے ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ حضرت عمر بن خطاب سے روایت کی کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّي عَلَيْهِ انہوں نے کہا: جب عبد اللہ بن اُبی بن سلول فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ مر گیا تو رسول اللہ صلی علیم کو اس کے لئے بلایا گیا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبِّتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ تاکہ آپ اس کا اس کا جنازہ پڑھیں۔ جب رسول صلی اللہ یکم يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَي کھڑے ہوئے تو میں آپ کی طرف جلدی سے وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا كَذَا وَكَذَا قَالَ گیا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ ابی کے بیٹے کا جنازہ پڑھیں گے ؟ حالانکہ اس نے تو فلاں دن أُعَدِّدُ عَلَيْهِ قَوْلَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ایسا ایسا کہا تھا۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ میں آپ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَخِرْ کے سامنے اس کی باتیں گنے لگا۔ رسول الله عَنِّي يَا عُمَرُ فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ قَالَ نام سن کر مسکرائے اور صد الله مسلم ریشم فرمایا: عمر ہٹ إِنِّي خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ لَوْ أَعْلَمُ أَنِّي جائیں۔ جب میں نے بہت اصرار کیا۔ تو آپ نے إِنْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ يُغْفَرْ لَهُ فرمایا: مجھے اختیار دیا گیا ہے اس لئے میں نے یہ لَزِدْتُ بِهَا قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ اختیار کیا۔ اگر میں جانتا کہ میں ستر سے زیادہ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مرتبہ استغفار کروں اور اس کو بخش دیا جائے گا تو انْصَرَفَ فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی میں ضرور اس سے زیادہ ہی اس کے لئے استغفار نَزَلَتِ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ وَلَا تُصَلِّ عَلَى کرتا۔ وہ کہتے تھے: چنانچہ رسول اللہ صلی ا ہم نے أَحَدٍ مِنْهُم مَّاتَ أَبَدًا إِلَى قَوْلِهِ وَهُمُ اس پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر آپ لوٹ گئے۔ فسِقُونَ (التوبة : ٨٤) قَالَ فَعَجِبْتُ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ سورة براءة کی یہ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللهِ دو آیتیں نازل ہوئیں: اور ان میں سے اگر کوئی الله سال