صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 373 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 373

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ کہا: جب عبد اللہ بن اُبی بن سلول) مر گیا تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ اس کا بیٹا عبد اللہ بن عبد اللہ رسول الله صلى الالم قَمِيصَهُ يُكَفِّنُ فِيهِ أَبَاهُ فَأَعْطَاهُ ثُمَّ کے پاس آیا اور اس نے آپ سے درخواست کی سَأَلَهُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ کہ اپنی قمیص اسے دے دیں جس میں وہ اپنے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ باپ کو کفنائے۔آپ نے اس کو قمیص دی۔پھر فَقَامَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِقَوْبِ رَسُولِ اللهِ اس نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اس کا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ أَتُصَلَّى جنازہ پڑھائیں۔رسول اللہ لی لی کم کھڑے ہو گئے تاکہ اس کا جنازہ پڑھائیں۔حضرت عمرؓ نے عَلَيْهِ وَقَدْ نَهَاكَ رَبُّكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی ال یکم کا کپڑا پکڑ لیا اور فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ اس کا جنازہ پڑھتے ہیں إِنَّمَا خَيَّرَنِي اللهُ فَقَالَ اِسْتَغْفِرُ لَهُمُ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمُ حالانکہ آپ کے رب نے آپ کو اس کا جنازہ پڑھنے سے روکا ہے ؟ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا: سَبْعِينَ مَرَّةً (التوبة: ۸۰) وَسَأَزِيدُهُ الله نے تو مجھے صرف اختیار دیا اور فرمایا ہے: تو عَلَى السَّبْعِينَ قَالَ إِنَّهُ مُنَافِقٌ قَالَ اُن کے لئے مغفرت طلب کر یا اُن کے لئے فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ﷺ فَأَنْزَلَ مغفرت نہ طلب کر، اگر تو اُن کے لئے ستر مرتبہ اللهُ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمُ مَاتَ بھی مغفرت مانگے۔اور میں ستر بار سے زیادہ ابد او لَا تَقُم عَلَى قَبْرِهِ (التوبة: ٨٤) مغفرت کی دعا کرلوں گا۔حضرت عمرؓ نے کہا: وہ تو منافق تھا۔(حضرت ابن عمرؓ) کہتے ہیں: خیر أطرافه ١٢٦٩، ٤٦٧٢، ٥٧٩٦۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھایا۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔یعنی تو اُن میں سے کسی کے لئے جو مر جائے کبھی دعائے مغفرت نہ کر اور نہ اس کی قبر پر کبھی کھڑا ہو۔٤٦٧١: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۴۶۱ يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث