صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 372 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 372

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۷۲ ۲۵ - كتاب التفسير / براءة ٤٦٦٩ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۳۶۶۹ اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا۔قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ زَائِدَةُ کہتے تھے: میں نے ابواسامہ سے پوچھا۔کیا زائدہ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ بن قدامہ) نے تمہیں بتایا کہ سلیمان (اعمش) الْأَنْصَارِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ سے مروی ہے۔انہوں نے شقیق (بن سلمہ ) سے، يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّى شقیق نے حضرت ابو مسعود انصاری سے روایت يَجِيءَ بِالْمُدِ وَإِنَّ لِأَحَدِهِمُ الْيَوْمَ کی کہ وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مِائَةَ أَلْفِ كَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ۔صدقے کا حکم دیتے تو ہم میں سے ایک محنت کر کے مڈلاتا اور آج اُن میں سے ایک کے پاس لاکھ در ہم ہیں۔گویا ان کا اشارہ اپنی طرف تھا۔أطرافه ١٤١٥، ١٤١٦، ٢٢٧٣ ، ٤٦٦٨- تشريح: الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِينَ۔۔۔: يَلْمِزُونَ کے معنی ہیں تعیبوں یعنی نقط چینی کرتے ہیں اور جهَدُهُمْ وَجَهَدُهُمْ کے معنی ہیں حسب طاقت۔پوری آیت یہ ہے: الَّذِینَ يَلْيزُونَ الْمُعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهَدَاهُمُ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ الله مِنْهُم وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمُ (التوبة : ۷۹) جو لوگ مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ چڑھ کر صدقہ دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو اپنی محنت کی کمائی کے سوا کوئی طاقت نہیں رکھتے اُن سے بھی وہ ہنسی کرتے ہیں۔اللہ اُن کی ہنسی اڑائے گا اور انہیں دردناک سزا ہوگی۔كنا نتعامل کے معنی ہیں ہم بار برداری کرتے تا صدقات میں حصہ لے سکیں۔b بَاب ۱۲ : اِسْتَغْفِرُ لَهُمُ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرُ لَهُمُ إِنْ تَسْتَغْفِرُ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمُ (التوبة: ۸۰) اللہ تعالیٰ کا فرمانا ) تو ان کے لئے استغفار کرے یانہ کرے، اگر تو ان کے لئے ستر بار بھی استغفار کرے تب بھی اللہ ہر گز انہیں معاف نہیں کرے گا۔٤٦٧٠ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ :٤٦٧٠: عبيد بن اسماعیل نے مجھے بتایا۔انہوں عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ نے ابو اسامہ سے، ابواسامہ نے عبید اللہ بن عمر ) عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے حضرت لَمَّا تُوُفِّيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَاءَ ابْنُهُ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے