صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 371
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۳۷۱ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة بَاب :١١: الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَتِ ( اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) یہ (منافق ہی) ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں (التوبة: (۷۹) يَلْمِزُونَ (التوبة: (۷۹) يَعِيبُونَ يَلْمِزُونَ کے معنی ہیں وہ طعنہ زنی کرتے ہیں۔وَجُهْدُهُمْ وَجَهْدُهُمْ طَاقَتُهُمْ۔جهْدُهُم اور جَهْدُهُمْ کے معنی ہیں اپنی طاقت کے مطابق۔٤٦٦٨ : حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ :۴۶۶۸ بشرین خالد ابو محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ أَبُو مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ محمد بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے سلیمان سے، سلیمان نے ابو وائل سے، عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلِ ابودائل نے حضرت ابو مسعود (انصاری) سے عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ لَمَّا أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ روایت کرتے ہوئے بیان کیا، انہوں نے کہا: جب كُنَّا نَتَحَامَلُ فَجَاءَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ ہمیں صدقہ کا حکم ہوا تو ہم اس وقت (مزدوری پر ) صَاعِ وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِأَكْثَرَ مِنْهُ فَقَالَ بوجھ اٹھایا کرتے تھے۔حضرت ابو عقیل (حجاب) الْمُنَافِقُونَ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ آدھا صاع کھجور ( مزدوری کے پیسوں میں سے) هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِنَاءً لے کر آئے اور ایک اور شخص ان سے زیادہ لایا تو فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوعِین اس پر منافق کہنے لگے کہ اللہ تو اس شخص کے صدقہ سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقْتِ وَالَّذِينَ لَا جو کیا تو محض دکھاوے کے لئے ہے۔تب یہ آیت نازل ہوئی یہ (منافق ہی) ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو کہ سوائے اپنی محنت کی کمائی کے (کوئی) طاقت نہیں رکھتے سو باوجود اس قربانی کے) یہ (منافق) ان پر ہنسی کرتے ہیں اللہ اُن میں سے اشد مخالفوں) کو ہنسی يَجِدُونَ الأجهدَ هُم (التوبة : ٧٩) الآيَةَ۔کی سزا دے گا اور اُن کو دردناک عذاب پہنچے گا۔أطرافه ١٤١٥، ١٤١٦، ٢٢٧٣، ٤٦٦٩-