صحیح بخاری (جلد دہم)

Page 370 of 613

صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 370

صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة دوو باب ۱۰ : وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبهمْ وَ فِي الرِّقَابِ ( التوبة : ٦٠) (اللہ تعالیٰ کا فرمانا: ) اور جن کی تالیف قلب کی جارہی ہو اور گردنوں کو آزاد کرانے کے لیے قَالَ مُجَاهِدٌ: يَتَأَلَّفَهُمْ بِالْعَطِيَّةِ۔مجاہد نے کہا: یعنی کچھ دے کر اُن کو مانوس کرے اُن کے دلوں کو مائل کرے۔٤٦٦٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۴۶۶۷ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے نُعْمِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باپ (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے قَالَ بُعِثَ إِلَى النَّبِيِّ لا بِشَيْءٍ (عبد الرحمن بن ابی لنغم سے، انہوں نے حضرت فَقَسَمَهُ بَيْنَ أَرْبَعَةٍ وَقَالَ أَتَأَلَّفَهُمْ ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔اُنہوں نے فَقَالَ رَجُلٌ مَا عَدَلْتَ فَقَالَ يَخْرُجُ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ مال بھیجا گیا تو آپ نے چار آدمیوں کے درمیان وہ بانٹ دیا اور فرمایا: مِنْ ضِنْضِي هَذَا قَوْمٌ يَمْرُقُونَ مِنَ میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں۔ایک شخص نے الدين۔کہا: آپ نے انصاف نہیں کیا۔آپ نے فرمایا: کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے تیر کی طرح نکل جائیں گے۔أطرافه : ٣٣٤٤، ۳٦١٠ ٤۳۵۱ ٥٠٥٨ ٦١٦٣، ٦٩٣١ ٦٩٣٣، ٧٤٣٢، ٧٥٦٢ - تشریح وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ : معنونه آیت پوری یہ ہے إِنَّمَا الصَّدَقُتُ لِلْفُقَرَاءِ وَ الْمَسْكِينِ وَ الْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤلَفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ ابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة: ۶۰) یعنی صدقات تو صرف محتاجوں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور ان کارکنوں کے لئے جو تحصیل صدقات کے لئے مقرر ہوں اور ان کے لئے بھی جن کی تالیف قلب مقصود ہو اور گردنوں کی آزادی اور قرض خواہوں کی سبکدوشی اور اللہ کی راہ یعنی جہاد اور مسافروں کی امداد کے لئے۔یہ فرض اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔روایت زیر باب میں مذکورہ واقعہ کے لئے دیکھئے کتاب المغازی باب نمبر ۶ روایت نمبر ۴۳۵۱۔مذکورہ بالا روایت نئی سند سے دوبارہ لائی گئی ہے جس سے اس کی تقویت ثابت ہے۔1۔عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ عَنْ ابْنِ أَبِي نُعم ہیں (عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحہ ۲۷۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔