صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 369
صحيح البخاری جلد ۱۰ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة رة علم ہوا تو ایک کمک اُن دونوں کی مدد کے لئے بھیج کر انہیں مکہ سے بحفاظت نکالا اور اُن دونوں سے حضرت ابن زبیر کا مقابلہ کرنے کی اجازت طلب کی۔مگر اُنہوں نے اجازت نہیں دی اور دونوں طائف میں چلے آئے اور یہاں اقامت اختیار کی۔بہ نسبت دوسری جگہوں کے یہاں امن تھا۔حضرت عبد اللہ بن عباس تو ۶۸ ھ میں فوت ہو گئے اور محمد بن علی طائف سے رضوی ( جبل پنج) میں کنارہ کش ہو گئے اور پھر یہاں سے شام میں جانا چاہا۔لیکن ایلہ جو بحیرہ احمر کی بندرگاہ ہے کا رخ کیا اور وہاں مقیم ہو گئے اور یہیں ۷۳ ھ کے آخر یا ہے دھ کے اوائل میں وہ فوت ہوئے۔اس وقت حضرت عبد اللہ بن زبیر شہید ہو چکے تھے۔کیسانی فرقہ محمد بن علی المعروف ابن حنفیہ کی نسبت یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ اب تک زندہ ہیں اور وہی مہدی موعود ہیں جو کسی غار میں پوشیدہ ہیں اور جب تک وہ ساری دنیا کو فتح نہ کریں گے فوت نہ ہوں گے۔یہ قصہ بھی مثل بچو دیگر خرافات سے ہے۔کیسانیہ فرقہ کیسان ابو عمرہ کوفی کے پیرو ہیں اور شیعہ کی ایک شاخ ہے۔۶۸۶ء میں ان کا ظہور ہوا۔یزید بن معاویہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر کی جنگ سے متعلق یہ خلاصہ ہے ان بیانات کا جو طبقات ابن سعد اور طبری میں مذکور ہیں۔امام ابن حجر نے محولہ بالا روایت ابن جریج کا پس منظر بیان کرنے کی غرض سے یہ خلاصہ نقل کیا ہے (فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۱۵) تا اس روایت کا غایت درجہ اختصار واضح ہو۔باب کی دوسری روایت میں جو ابہام ہے وہ تیسری روایت سے دور کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کے راوی ابن جریج ہی ہیں۔ان کی روایت میں حضرت ابن عباس کے جواب إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَبَنِي أُمَيَّةً مُحِلِينَ۔وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُحِلُّهُ أَبَدًا میں كَتَب بمعنی قدر ہے۔یعنی اللہ نے اُن دونوں کے لئے مقدر کیا ہے کہ وہ بیت اللہ کی حرمت کا پاس نہ رکھیں۔لیکن میں تو اس میں لڑائی جائز نہیں سمجھتا۔حضرت ابن عباس کا یہی مذہب تھا کہ اس میں کسی شخص کے لئے بھی قتال جائز نہیں۔خواہ حملہ کرنے والا ہی ابتداء کرنے والا ہو اور خواہ وہ حسب و نسب اور قرابت نبوی اور شافت نفسی کی ساری خوبیاں رکھتا ہو اور اُن کے خاندان کا پروردہ ہی کیوں نہ ہو۔اشفاء جمع ہے گفو کی اور کرام کریم کی یعنی محارب فریقین ہم پلہ اور شریف لوگ ہیں۔اس سے حضرت ابن عباس کی مراد بنو اسد ہے جو ابن زبیر کا خاندان تھا اور بنو امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف ان کا چیرہ خاندان۔کیونکہ بنو عبد المطلب بن ہاشم بھی عبد مناف کے بیٹے تھے جو حضرت عبد اللہ بن عباس کے جد امجد ہیں۔ہاشم و عبد شمس دونوں سگے بھائی تھے۔وَاللهِ إِن وَصَلُّونِي وَصَلونِي مِنْ قَرِيبٍ: اگر بنو امیہ نے میرے ساتھ نیک سلوک کیا تو یہ سلوک صلہ رحمی کی وجہ سے ہو گا ورنہ ( فَآثَرَ عَلَي التَّوَيْنَاتِ وَالْأَسَامَاتِ وَالْحُمَيْدَاتِ) ابن زبیر نے بنو اسد کے خاندان بنو تویت و بنو اُسامہ اور بنو حمید کے تعلقات کو ترجیح دی ہے۔یہ سب عبد العزیٰ کی نسل سے تھے۔باب کی تیسری روایت کے آخر میں الفاظ بَرَزَ يَمْشِي القَدَمِيَّةَ کا مفہوم یہ ہے کہ عبد الملک بن مروان بلند مراتب کے حصول میں دوسروں پر سبقت لے گیا ہے اور فقرہ لوّى ذَنَبَه کنایہ ہے۔جس کے معنی تأخَّرَ کے ہیں۔یعنی ابن زبیر اس کے مقابل پر پیچھے ہو گئے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۴۱۷)