صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 368
۳۶۸ ۶۵ - كتاب التفسير / براءة صحيح البخاری جلد۔هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَ أَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُنْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيم ) (التوبة: ۴۰) اگر تم اس (رسول) کی مدد نہ کرو تو یقینا اللہ اس وقت بھی اس کی مدد کر چکا ہے جب کہ کافروں نے اسے ایسی حالت میں نکال دیا تھا کہ وہ صرف دو ہی تھے جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب یہ دوسرا اپنے ساتھی (ابوبکر) سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر۔کیونکہ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔سو اللہ نے اس پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور اس کی ایسے لشکروں سے مدد کی کہ جنہیں تم نہیں دیکھتے تھے اور اُن لوگوں کی بات پست کر دی جنہوں نے کفر کیا تھا اور اللہ کا ہی بول بالا ہے اور اللہ عزیز (اور) حکیم ہے۔اس باب کی روایات کا تعلق واقعہ حرہ سے ہے جو تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔اس بارہ میں کچھ ذکر تو حسب مناسب موضوع کتاب العلم باب ۳۷ روایت ۱۰۴ میں گزر چکا ہے۔حرہ کی جنگ سے متعلق واقعات کا تعلق ۶۵،۶۴ ہجری سے ہے۔جب یزید بن معاویہ کی بیعت سے حضرت عبد اللہ بن زبیر نے انکار کر دیا کہ اس کی خلافت اُن کے نزدیک اصول اسلام کے خلاف تھی۔یزید بن معاویہ نے مسلم بن عقبہ کو فوج کی سر کردگی میں مدینہ بھیجا اور مدینہ کے پتھر یلے میدان حرہ میں پہلی جنگ ہوئی اور مدینہ سے اس کی فوج نے سکے کی طرف کوچ کیا۔اسی دوران مسلم بن عقبہ سپہ سالار فوت ہو گئے اور حصین بن نمیر شامی فوج کا سالار مقرر ہوا تو اس نے حضرت عبد اللہ بن زبیر" کا جو مکہ مکرمہ میں تھے محاصرہ کیا اور کعبہ پر منجنیق سے حملہ کیا۔جس سے کعبہ کا کچھ حصہ جل گیا تھا۔اتنے میں یزید کی اچانک موت سے متعلق اطلاع پہنچی اور اس کی فوج کو شام واپس جانا پڑا۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے خانہ کعبہ کی مرمت سے فارغ ہو کر اپنی خلافت کی بیعت لوگوں سے لی۔اہل حجاز ، مصر ، عراق اور کثیر حصہ شام میں اُن کی اطاعت قبول کی گئی۔یزید کی جگہ مردان نے خلافت سنبھالی اور مرج راحط کے مقام پر شامی فوج اور حضرت ابن زبیر کی فوج کا مقابلہ ہوا۔ہوا۔جس میں مؤخر الذکر فوج کے سپہ سالار ضحاک بن قیس ” شہید ہوئے اور یہاں سے مروان مصر گیا جہاں اسے کامیابی کی اُمید تھی۔چنانچہ مصریوں نے اس کا ساتھ دیا جس سے وہ حضرت ابن زبیر کی فوج پر غالب آیا۔کعبہ کی تعمیر ۷۵ھ میں مکمل ہوئی اسی سال مروان فوت ہوا جس پر اس کا بیٹا عبد الملک تخت خلافت پر متم ہوا۔اسی دوران مختار بن ابی عبید نے کوفہ پر قبضہ کر لیا۔جہاں حضرت ابن زبیر کی طرف سے عبد اللہ بن مطیع بطور امیر متعین تھے۔یہ تاب مقاومت نہ لا سکے اور وہاں سے بھاگ گئے۔متمکن محمد بن علی بن طالب اور حضرت عبد اللہ بن عباس (رضی اللہ عنہما) ان دنوں حضرت امام حسین کی شہادت کے بعد مکہ میں مقیم تھے۔جنہیں حضرت عبد اللہ بن زبیر نے اپنی بیعت کی جب دعوت دی تو انہوں نے تاوقتیکہ لوگ کسی ایک شخص کی خلافت سے متفق نہ ہو جائیں، اُن کی بیعت خلافت سے معذوری کا اظہار کیا۔( محمد بن علی وہی ہیں جو ابن حنفیہ کی کنیت سے مشہور ہیں۔مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت بھی انہی کی رائے سے متفق تھی۔حضرت ابن زبیر نے ان کے خلاف سختی سے کام لینا چاہا اور ایک دستہ فوج بھیج کر اُن کا محاصرہ کیا۔مختار بن ابی عبید کو جب اس کا