صحیح بخاری (جلد دہم) — Page 16
صحیح البخاری جلد ۱۰ ۱۶ ۶۵- کتاب التفسير / البقرة 66 یچ: یہ باب بغیر عنوان کے ہے اور اس میں بعض الفاظ و آیات کا مفہوم نقل کیا گیا ہے۔شیطان کا لفظ شیطانی وصف انسان پر بھی اطلاق پاتا ہے۔مجاہد نے سورۃ بقرہ کی آیت (نمبر ۱۵) وَ إِذَا خَلُوا إلى ہے۔شیطینوم میں شیاطین سے کفار کے وہ سردار اور راہنما مراد لیے ہیں جو منافق اور مشرک تھے اور انہیں غلط کاری کا مشورہ دیتے تھے۔مجاہد کی یہ تفسیر عبداللہ بن ابی نجیح اور قادہ سے مروی ہے اور خلوا إلى شَيْطِینھم میں حرف جر ” إلى “ بمعنی ”مع“ ہے۔یعنی ان کے ساتھ خلوت میں ہوتے ہیں۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۲) محيط بالكفرين کے معنی اللہ انہیں اکٹھا کرنے والا ہے۔یہ تفسیر بھی مجاہد کی مذکورہ بالا سند سے مروی ہے اور طبری نے بھی اسے موصولاً نقل کرتے ہوئے اتنا بڑھایا ہے کہ جہنم میں اکٹھا کرے گا اور حضرت ابن عباس نے نے مُنزِل بهم النقمة کے معنی کیسے ہیں: اُن پر ناراضگی نازل کرنے والا ہے۔( فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۲) سیاق کلام سے دونوں کا مفہوم واضح اور ایک ہی ہے۔نقمة عربی میں وہ ناراضگی ہے جس کا اظہار بصورت سزا ہو۔کفار کا احاطہ کرنے سے ظاہر ہے کہ الہی سزا کی گرفت نہایت سخت اور ہمہ گیر ہوگی کہ وہ اس سے بچ نہیں سکیں گے۔جیسا کہ عملاً واقعہ ہوا۔بڑے شدومد سے کفار قریش نے جنگ بھڑکائی اور وہی جنگ ان کی ہلاکت کا باعث ہوئی اور قبل از وقت انذار پورا ہو کر بہتوں کے ایمان و ہدایت کا موجب ہو ا۔قرآن کی آیات اسی لئے آیات کہلاتی ہیں کہ وہ حی و قیوم قادر مطلق خدا کے وجود پر دلالت اور اس کی صفات کی نشاندہی کرتی ہیں۔آیت کے معنی ہیں نشان ، جو راہنمائی کرے اور پتہ دے۔لوگ موجودہ تورات و انا جیل کی عبارتوں کو جو مسلمہ طور پر بعض علماء کا ساختہ پر داختہ ہے آیت کہتے ہیں جو غلطی۔صبغة سے اشارہ ہے آیت صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عِيدُونَ (البقرة: ١٣٩) کی طرف۔صِبْغَةَ اللہ میں لفظ صِبْغةُ مصدر بمعنی ترغیب و طلب ہے کہ صفات الہیہ کا روپ دھارو، اس سے بڑھ کر حسن کسی شے میں نہیں۔یہ اشارہ ہے۔بپتسمہ کی طرف ، جو یہودیوں اور عیسائیوں میں رائج تھا۔یہود اپنے بچوں کو یہودی بنانے کی غرض سے پانی سے نہلاتے تھے اور عیسائی بھی، مگر اب بپتسمہ کا طریق تبدیل ہو گیا ہے۔مجاہد نے صبغة سے مراد دین لیا ہے اور انہی سے صبغة بمعنی فطرة الله یعنی فطرت الہی بھی مروی ہے۔جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔آیت کے آخری فقرے وَنَحْنُ له عبداون سے عبوریت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جس کے معنی ہیں، صفات الہیہ کو اپنانا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کا مفہوم تخلقُوا بِأَخْلَاقِ اللہ بیان فرمایا ہے۔یہی عبودیت بالفاظ دیگر دین ہے۔امام ابن حجر نے صبغة اللہ کی مزید وضاحت کی ہے کہ وہ دین اسلام ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۲۰۲) اور مذکورہ بالا آیت سے قبل انہی کے الفاظ يُبَنِي إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا (جامع البيان للطبری، سورة البقرة، آیت: محيط بالكَفِرِينَ ، جزء اول صفحہ ۳۷۸) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: اللہ کا رنگ پکڑو اور رنگ میں اللہ سے بہتر اور کون ہو سکتا ہے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔“ 23 (التفسير الكبير للرازی، سورة آل عمران، آیت: فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ ، جزء ۹ صفحه (۴۰۸)